ایران میں پھنسے پاکستانی طلبا و طالبات کا قافلہ تہران سے روانہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایران میں پھنسے پاکستانی طلبا و طالبات کا قافلہ تہران سے روانہ WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز
تہران: ایران میں پھنسے پاکستانی طلبا و طالبات کا قافلہ تہران سے روانہ ہوگیا۔
اسرائیل اور ایران کی جنگ کے باعث پاکستانی ایران میں پھنس گئے تاہم اب پاکستانی طلبا کو لےکر 6 بسیں تفتان بارڈر کیلئے روانہ ہو گئی ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق تفتان بارڈر پر آج شام 4بجے کے بعد بھی راہداری ملے گی۔ اتوار کو 180 پاکستانیوں نے باڈر کراس کیا ۔ واپس آنےوالوں میں 168 زائرین،12 تاجر شامل ہیں۔
ایران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری ملاقاتوں کے لیے پاکستان میں ہیں ، ایران میں پاکستانی سفارتخانہ پاکستانیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
مدثر ٹیپو نے تہران میں سفارتخانے ، مشہد اور زاہدان میں قونصل خانے اور وزارت خارجہ اسلام آباد میں قائم یونٹ کا نمبر اور ای میل سوشل میڈیا پر شیئر کردیا۔
واضح رہے کہ ایران سے متصل پنجگور کے دونوں کراسنگ پوائنٹس غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیے گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان فضائی راستہ بھی بند ہے۔
اسرائیلی حملوں کے پیش نظر وزارت داخلہ نے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا نے سفارتی عملے کو اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت کردی ایران کا اسرائیل پر بڑا میزائل حملہ: تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکے، حیفہ پاور پلانٹ میں آگ، درجنوں ہلاکتیں اسٹیٹ بینک نئی مالیاتی پالیسی کا اعلان کل کریگا،شرح سود 11فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان پیوٹن نے خامنہ ای کو امریکا سے مذاکرات تیز کرنے کا مشورہ دیا، اسرائیلی میڈیا کا دعوی بنگلادیش میں پاکستانی ہائی کمشنر کو اچانک تبدیل کردیا گیا ایران اسرائیل کو معاہدہ کرنا چاہئے اور یہ معاہدہ کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ پانی زندگی بچاتا ہے جو اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے،چیئرمین سی ڈی اےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستانی طلبا ایران میں
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔