​​​​​​​اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آج ہم شہید باقری، شہید سلامی اور شہید حاجی زادہ کے مخلصانہ وعدوں کی تکمیل کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جنہوں نے بار بار اعلان کیا تھا کہ وعدہ صادق 3 پچھلے آپریشنز کے مقابلے بہت زیادہ تباہ کن، سخت، زیادہ درست ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کی جانب سے صیہونی رجیم کیخلاف میزائل حملوں کی ایک نئی لہر آج صبح شروع کی گئی، جو پہلے سے زیادہ طاقتور اور تباہ کن تھی۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے اعلامیہ کے مطابق اس آپریشن میں شہید باقری، شہید سلامی، شہید حاجی زادہ اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایرو اسپیس کے دیگر شہداء کی کاوشوں اور تیار کردہ جدید سازوسامان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دشمن کے کثیر الجہتی دفاعی نظام کو اس طرح  اختلال کا شکار کیا گیا کہ دشمن کا دفاعی نظام اپنے ہی اھداف کو نشانہ بنانے لگا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی ہر طرح کی حمایت اور جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کے حامل ہونے کے باوجود ہمارے میزائیل غاصب رجیم کیخلاف اھداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آج ہم شہید باقری، شہید سلامی اور شہید حاجی زادہ کے مخلصانہ وعدوں کی تکمیل کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جنہوں نے بار بار اعلان کیا تھا کہ وعدہ صادق 3 پچھلے آپریشنز کے مقابلے بہت زیادہ تباہ کن، سخت، زیادہ درست ہوگا، اس آپریشن سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی ایران کے خلاف غاصب صہیونی دشمن اور امریکیوں کے وہم و گمان اور اندازے بالکل غلط تھے اور اب ہم جلد صیہونی غاصب حکومت کے خاتمے کا مشاہدہ کرینگے، اس مجرمانہ حکومت کے حامیوں کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اس جعلی حکومت کے اہم اہداف کے خلاف موثر، ٹارگٹڈ اور مزید تباہ کن کارروائیاں اس کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔

سی این این سے گفتگو میں ایک امریکی ماہر نے کہا ہے کہ ایرانی میزائلوں کی نئی سیریز ہدف کو نہایت درستگی سے نشانہ بنا رہی ہے،  یہ ان میزائلوں سے مختلف ہیں جو پہلے ایران کے زیر استعمال تھے۔ عسکری ماہر کے مطابق ایرانی میزائل دفاعی نظام کو الجھانے اور چکمہ دینے  کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کی طرف سے ان کو روکنے کی کوشش  پیچیدہ تر ہو گئی ہے اور میزائیلوں کا مقابلہ اور دفاع کرنیکی اسرائیلی صلاحیت بری طرح متاثرہوئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دفاعی نظام تباہ کن

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان