ایران نے اسرائیل کا دفاعی نظام مختل کر دیا، انٹرسیپٹر آپس میں ہی ٹکرانے لگے
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آج ہم شہید باقری، شہید سلامی اور شہید حاجی زادہ کے مخلصانہ وعدوں کی تکمیل کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جنہوں نے بار بار اعلان کیا تھا کہ وعدہ صادق 3 پچھلے آپریشنز کے مقابلے بہت زیادہ تباہ کن، سخت، زیادہ درست ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کی جانب سے صیہونی رجیم کیخلاف میزائل حملوں کی ایک نئی لہر آج صبح شروع کی گئی، جو پہلے سے زیادہ طاقتور اور تباہ کن تھی۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے اعلامیہ کے مطابق اس آپریشن میں شہید باقری، شہید سلامی، شہید حاجی زادہ اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایرو اسپیس کے دیگر شہداء کی کاوشوں اور تیار کردہ جدید سازوسامان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دشمن کے کثیر الجہتی دفاعی نظام کو اس طرح اختلال کا شکار کیا گیا کہ دشمن کا دفاعی نظام اپنے ہی اھداف کو نشانہ بنانے لگا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی ہر طرح کی حمایت اور جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کے حامل ہونے کے باوجود ہمارے میزائیل غاصب رجیم کیخلاف اھداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آج ہم شہید باقری، شہید سلامی اور شہید حاجی زادہ کے مخلصانہ وعدوں کی تکمیل کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جنہوں نے بار بار اعلان کیا تھا کہ وعدہ صادق 3 پچھلے آپریشنز کے مقابلے بہت زیادہ تباہ کن، سخت، زیادہ درست ہوگا، اس آپریشن سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی ایران کے خلاف غاصب صہیونی دشمن اور امریکیوں کے وہم و گمان اور اندازے بالکل غلط تھے اور اب ہم جلد صیہونی غاصب حکومت کے خاتمے کا مشاہدہ کرینگے، اس مجرمانہ حکومت کے حامیوں کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اس جعلی حکومت کے اہم اہداف کے خلاف موثر، ٹارگٹڈ اور مزید تباہ کن کارروائیاں اس کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔
سی این این سے گفتگو میں ایک امریکی ماہر نے کہا ہے کہ ایرانی میزائلوں کی نئی سیریز ہدف کو نہایت درستگی سے نشانہ بنا رہی ہے، یہ ان میزائلوں سے مختلف ہیں جو پہلے ایران کے زیر استعمال تھے۔ عسکری ماہر کے مطابق ایرانی میزائل دفاعی نظام کو الجھانے اور چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے اسرائیلی فضائی دفاعی نظام کی طرف سے ان کو روکنے کی کوشش پیچیدہ تر ہو گئی ہے اور میزائیلوں کا مقابلہ اور دفاع کرنیکی اسرائیلی صلاحیت بری طرح متاثرہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دفاعی نظام تباہ کن
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔