9 مئی کے مقدمات میں دی جانے والی سزائیں افسوسناک ہیں: محمد زبیر
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
فائل فوٹو
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ 9 مئی کے مقدمات میں دی جانے والی سزائیں افسوسناک ہیں، 1970ء کے انتخابات میں بنگالیوں کا مینڈیٹ تسلیم کرلیا جاتا تو پاکستان نہ ٹوٹتا، ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر انتظام آل پارٹیز کانفرنس کے دوسرے روز خطاب میں محمد زبیر نے کہا کہ مصطفیٰ کھوکھر کی قیادت میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھا کرنا خوش آئند ہے، جمہوریت اور عوامی مسائل پر رائے اور عمل طے کرنا وقت کی ضرورت ہے، اپوزیشن کا مطلب صرف تنقید نہیں، اچھی پیش رفت کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹریڈ ٹیرف میں پیش رفت خوش آئند ہے، پاکستان کو 19 فیصد ٹیرف ملا، جو پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے، اگر ملک میں اچھی گورننس اور سیاسی استحکام رہا تو برآمدات کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ اب اگر کسی کو کانفرنس کرنے کے لیے روکا جاتا ہے تو یہ فسطائیت ہے
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قانون میں ہر جرم کی سزا اور پراسس واضح ہے، انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام فریقین کو برابر کا دفاعی حق ملے، جیسے ہی نظام بدلتا ہے سزائیں کالعدم ہو جاتی ہیں، نواز شریف کی واپسی پر عدالتیں ایئرپورٹ پہنچ گئیں۔
سابق گورنر سندھ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اسمبلیاں تحلیل کیں یہ ان کا آئینی حق تھا، 90 دن میں انتخابات نہ کروا کر آئین کی خلاف ورزی کی گئی، کہتے ہیں پارلیمنٹ سپریم ہے تحریک انصاف نے 125 سیٹوں پر استعفیٰ دیا، پارلیمنٹ کی مدت 16 مہینے باقی تھی، انہوں نے 16 مہینے ضمنی الیکشن ہی نہیں کروائے کیونکہ اس سے پہلے 10 سیٹوں پر عمران خان ضمنی الیکشن جیت گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔