سیلابی بحران سے نکالنے اور متاثرین کی بحالی کیلئے وفاقی حکومت کی توجہ درکار ہے: ترجمان جی بی حکومت
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
---فائل فوٹو
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللّٰہ فراق نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں سیلابی صورتحال کے سبب ایمرجنسی نافذ ہے، سیلابی بحران سے نکالنے اور متاثرین کی بحالی کے لیے وفاقی حکومت کی توجہ درکار ہے۔
جی بی حکومت کے ترجمان فیض اللّٰہ فراق نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے وزیراعظم پاکستان کو گلگت بلتستان کے دورے کی دعوت دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج وادی بگروٹ میں گلیشیئر پھٹ گیا، باپ بیٹا گہری کھائی میں گر گئے تھے، ریسکیو کی ٹیم بروقت جائے وقوعہ پر پہنچی، بیٹے کی موت واقع ہوگئی جبکہ باپ کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔
جی بی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غذر میں بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شاہراہ بابوسر پر لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے 11 ویں روز بھی سرچ آپریشن جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔