چینی کی صنعت نے 300 ارب کما لئے، صارفین مارے گئے: قائمہ کمیٹی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
اسلام آباد‘ لاہور (آئی این پی+ نوائے وقت رپورٹ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سکیورٹی کے اجلاس میں شوگر ملز کی جانب سے چینی کی من مانی قیمتوں سے منافع کمانے کا تذکرہ ہوا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سکیورٹی کا اجلاس سید حسین طارق کی زیر صدارت ہوا۔ ممبر کمیٹی ذوالفقار علی نے کہا کہ قیمتیں بڑھانے سے چینی کی صنعت نے300 ارب روپے کمالیے ہیں لیکن کسان اور صارفین مارے گئے، اسے آئندہ ایجنڈے میں شامل کیا جائے۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس کیلئے معاملے کو ایجنڈے میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ نمائندہ ایف بی آر نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ23تمباکو کمپنیوں میں اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے، اب پتہ چل سکے گا کتنا تمباکو مارکیٹ میں آرہا ہے، کتنی کاشت ہورہی ہے، جنرل سیلز ٹیکس سگریٹ پر ہے، تمباکو پر نہیں۔ سگریٹ پر 18فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ ایم ڈی کراپس پاکستان کا کہنا ہے کہ پورے خطے پر نظر ڈالی جائے تو پالیسی کی سطح پر دنیا آگے نکل گئی ہے، ہمیں پالیسی بنانے کی سطح تک معاونت درکار ہے، دنیا ڈرون اور دیگر ٹیکنالوجی کے استعمال میں بہت آگے نکل گئی ہے۔علاوہ ازیں حکومتی اقدامات کے نتیجے میں 2 شوگر ڈیلرز کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا۔دونوں کے نام ای سی ایل میں شامل تھے۔ذرائع شوگر ڈیلرز ایسو سی ایشن کے مطابق ایک شوگرڈیلر لاہور سے ملائیشیا اور ایک کراچی سے دبئی جارہا تھا، دونوں پر چینی ایکسپورٹ کرنے اور قلت کی وجہ بننے کا الزام ہے۔ شوگر ڈیلرز ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ ہم ٹیکس دینے والے لوگ ہیں ،ملک بھر سے 15بڑے شوگر ڈیلرز کے نام ای سی ایل میں ہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ ہمارے ممبران کے نام ای سی ایل سے نکالے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شوگر ڈیلرز
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932