حکومت پاکستان کا جرمن کوہ پیما لورا ڈہلمیئر کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے گلگت بلتستان کی لیلیٰ پیک پر کوہ پیمائی کے دوران حادثے میں معروف جرمن ایتھلیٹ اور کوہ پیما لورا ڈہلمیئر کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لورا ڈہلمیئر عالمی سطح پر ایک مثالی کھلاڑی تھیں اور دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ تھیں۔ ان کا حوصلہ، عزم اور کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق حکومت پاکستان لورا کے اہل خانہ، عزیزوں اور جرمن قوم سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: جرمن اولمپیئن لارا ڈاہل مائر پاکستان میں کوہ پیمائی کے دوران جان گنوا بیٹھیں، انوکھی وصیت کیا تھی؟
واضح رہے کہ لورا ڈہلمیئر رواں ماہ 28 جولائی کو لیلیٰ پیک سر کرنے کی مہم کے دوران بھاری پتھروں کے گرنے سے ایک خطرناک مقام پر جا گریں۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق خراب موسم کے باعث فضائی تلاش ممکن نہ ہوسکی تاہم گراؤنڈ ٹیموں نے امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ بعد ازاں اُن کی تلاش کا آپریشن ختم کر دیا گیا اور اُنہیں مردہ قرار دیا گیا۔ لورا کی میت کو واپس لانے کے لیے مستقبل میں مخصوص حالات میں دوبارہ کوشش کی جائے گی۔
لورا ڈہلمیئر کا تعلق جرمنی سے تھا اور وہ بین الاقوامی سطح پر بیاتھلون کی ممتاز کھلاڑی تھیں، جنہوں نے متعدد عالمی اعزازات اپنے نام کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کوہ پیما گلگت بلتستان لیلیٰ پیک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کوہ پیما گلگت بلتستان
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔