سیلابی صورت حال، گلگت بلتستان کے 37 مقامات آفت زدہ قرار، ایمرجنسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
گلگت بلتستان حکومت نے حالیہ سیلابی صورتحال سے متاثرہ 37 مقامات کوآفت زدہ قرار دیتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
گلگت بلتستان کے محکمہ داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع دیامر کے بارہ، گلگت کے نو، اسکردو کے چار ،غذرکے پانچ ،گانچھے کے دو، شگرکے چار ، نگر اور کھرمنگ کے ایک ایک مقام کوآفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔
نوٹی فکیشن کے مطابق ان مقامات پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایاکہ گلگت بلتستان میں سیلاب سے 20 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ 10 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے زیادہ ترسیاح ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب میں 4 افراد زخمی ہوئے جن کوطبی امداد دی گئی ہے جبکہ 10 سے 15 سیاح لاپتہ ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ 22 گاڑیاں سیلاب میں بہہ گئیں تھیں، حکومت متاثرین کی فوری بحالی کیلئے اپنے وسائل سے 44 کروڑکے پانی، بجلی اور رابطہ سڑکوں کے منصوبوں پرکام شروع کرچکی ہے۔
فیض اللہ فراق نے کہا کہ متاثرین میں خیمے ،کمبل ،اشیائے خورونوش اور کچن سیٹس تقسیم کئے جا چکے ہیں،تباہ شدہ 509 گھروں کی بحالی بڑا چیلنج ہے، امید ہے وزیر اعظم پاکستان متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟