وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں کی حالیہ پریس کانفرنس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہاہےکہ اپوزیشن کے الزامات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
 عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے معیشت سنبھالی، ملک ڈیفالٹ کے دھانے پر کھڑا تھا۔ “تحریک انصاف والے شرطیں لگا رہے تھے کہ ملک کب ڈیفالٹ کرے گا، یہاں تک کہ وہ دعائیں مانگ رہے تھے کہ پاکستان دیوالیہ ہو جائے۔” انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس، آج پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، مہنگائی میں کمی آئی ہے، پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے اور سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے،” انہوں نے کہا۔ مزید یہ کہ بجٹ میں وزیراعظم نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا ہے، جس سے متوسط طبقے کو ریلیف ملا ہے۔
عطاء تارڑ نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ “یہ صرف تنقید برائے تنقید کر رہے ہیں، ان کے پاس کوئی پالیسی یا دلیل نہیں ہے۔ یہ ذہنی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں، اور چند الفاظ رٹ کر ہر بار ٹی وی پر آ جاتے ہیں۔”
 ایران کے صدر کے متوقع دورہ پاکستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم سنگ میل ہے، اور اپوزیشن ایسی پریس کانفرنسیں کر کے اس قسم کے اہم دوروں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
انہوں نے مصطفیٰ نواز کھوکھر کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ قوم کے سامنے اپنے اثاثوں کی تفصیلات رکھیں، جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین پر 190 ملین پاؤنڈ کی مبینہ کرپشن کا الزام دہراتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کا فیئر ٹرائل دو سال چلا، جس میں ناقابل تردید شواہد پیش کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ کیمرے کی آنکھ نے سب کچھ محفوظ کیا اور اب اس سے انکار ممکن نہیں۔ “اپوزیشن کے پاس 9 مئی کا کوئی جواب نہیں، اس لیے وہ ایسی بے بنیاد پریس کانفرنسیں کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
 انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن کی پریس کانفرنس میں صرف جھوٹ، فساد اور پروپیگنڈہ تھا، اور ان کا اصل مقصد صرف ذاتی مفادات کا تحفظ ہے، نہ کہ ملکی مفاد۔
  اگر آپ اس خبر کو مختصر یا سوشل میڈیا کے لیے تیار کروانا چاہیں تو میں وہ بھی فراہم کر سکتا ہوں۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی