وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ مضحکہ خیز اور جھوٹ پر مبنی اعلامیے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

اپوزیشن اتحاد کی آل پارٹیز کانفرنس اعلامیہ پر ردعمل میں وفاقی وزیر اطلاعات  نے کہا کہ جب ن لیگ کو حکومت ملی تو ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف والے شرطیں لگا رہے تھے کہ ملک کب ڈیفالٹ کرے گا، ان کو پتہ ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، مہنگائی میں کمی ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، ملک میں سرمایہ کاری آ رہی ہے، اسٹاک ایکس چینج میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے، اسٹاک ایکس چینج کا بڑھنا سرمایہ کاروں کا معیشت پر اعتماد کا مظہر ہے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن صرف تنقید برائے تنقید کرتی ہے، ان کے پاس کوئی پالیسی نہیں، گھسی پٹی رٹ ہے، یہ ذہنی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں، یہ پوری قوم کو بے وقوف بنا رہے ہیں جو افسوسناک ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 9 مئی کے مقدمات کا فیئر ٹرائل ہوا، ان ٹرائل میں ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے گئے، 9 مئی کا ان کے پاس جواب نہیں، اس لیے اس طرح کی پریس کانفرنسیں کر کے چیخ و پکار کر رہے ہیں جس کا کوئی جواز نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی کسی ملک کےسربراہ نے پاکستان آنا ہوتا ہے تو اپوزیشن اسے سبوتاژ کرنے کے لیے ایسی پریس کانفرنس کرتی ہے، یا پھر یہ بتادیں کہ ملکی ترقی کو جس رفتار سے ہم لے کر جارہے ہيں ان کے پاس اس سے بہتر کرنے کے لیے کیا تجاویز ہيں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر نے کہا کہ

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا