تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر انتظام آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
 کانفرنس کے بعد اپوزیشن رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں مشترکہ اعلامیہ جاری کر رہے ہیں جب اپوزیشن کو ختم کیا جارہا ہے، ہائبرڈ نظام ملک سے اپوزیشن کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے، ملک کی تمام جماعتوں کے درمیان گرینڈ ڈائیلاگ کیا جائے، ٹُرتھ اینڈ ری کنسلیئیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا آج ملک بھر کی اپوزیشن جماعتوں نے سیاسی وسماجی صورتحال پر بات کی، پاکستان میں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، پاکستان میں اپوزیشن کے لیے کوئی جگہ حاصل کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے، حکومت کا کانفرنس میں رکاوٹ ڈالنا آئینی و قانونی حقوق پر ضرب ہے۔
انہوں نے کہا کاروباری طبقہ ملک چھوڑ کر باہر جا رہا ہے، 45 فیصد پاکستانی سطح غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بے روزگاری کی شرح 20 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
 اے پی سی کے اعلامیے میں کہا گیا قومی اسمبلی و سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر کے خلاف فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، اس وقت پاکستان کی تمام جماعتوں میں میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے، انسانی حقوق و پارلیمانی جمہوری نظام مکمل تباہ ہو چکا ہے، نئے میثاق کے لیے ملک کی تمام سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق پیدا کیا جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کی جائے اور حل نکالا جائے، ایک ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن بنایا جائے، میڈیا کی آزادی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، خواتین کے حقوق اور تعلیم کے لیے حق کو میثاق میں شامل کیا جائے، صوبوں کے غصب کیے گئے حقوق واپس کیے جائیں۔
 اے پی سی اعلامیے میں کہا گیا 26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ کیا جائے، ججز کی تقرری کے واضع نظام کو وضع کیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے خطوط لکھنے والے چھ ججز ہیرو ہیں۔
 2024 کے انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں، آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے، بلوچستان کے حقوق پر پہلا حق ان کے باسیوں کا ہے، لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے، امن و امان قائم کرنے والے سول اداروں کو ذمہ داری دی جائے، پاکستان بھر سے زائرین کے لیے چہلم امام حسین پر جانے والوں پر پابندی ختم کی جائے، کراس بارڈر تجارت کے لیے سیکڑوں سال سے بنے روٹس کو بحال کیا جائے، کے پی کے حالات اس وقت لہولہان ہیں۔
 اس سے قبل کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ماضی میں اقتدار کے بہت فارمولے آئے مگر سب ناکام ہوئے، صرف آئین و قانون کا فارمولا ہی کامیاب ہوسکتا ہے۔
 سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا 9 مئی کے مقدمات میں دی جانے والی سزائیں افسوس ناک ہیں ، انصاف کا تقاضا ہے کہ تمام فریقین کو برابر کا دفاعی حق ملے، جیسے ہی نظام بدلتا ہے سزائیں کالعدم ہوجاتی ہیں۔
 اسد قیصر نے کہا کہ 9 مئی کا فیصلہ انصاف نہیں، عدالتی وقار پر سوالیہ نشان ہے، اگر انصاف نہیں ملا تو کیا ہمیں عالمی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا ہوگا؟

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کیا جائے اے پی سی نے کہا کے لیے

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں
  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا