چیف جسٹس نے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے خط کا نوٹس لے لیا، ملاقات پشاور میں طے
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے قائد حزب اختلاف عمر ایوب کے حالیہ خط کا نوٹس لیتے ہوئے ان سے براہِ راست رابطہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے عمر ایوب کو جمعے کے روز ملاقات کے لیے اسلام آباد مدعو کیا، تاہم اپوزیشن لیڈر نے دارالحکومت آنے سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:میانوالی جوڈیشل کمپلیکس حملہ: ملزم کو 25 سال قید، 51 اشتہاری قرار، عمر ایوب کے وارنٹ برقرار
عمر ایوب نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسلام آباد میں ان کی گرفتاری کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق عمر ایوب کی جانب سے پشاور میں ملاقات کی درخواست کی گئی، جسے چیف جسٹس نے قبول کر لیا۔ ملاقات کی حتمی تاریخ اور وقت طے کیا جا رہا ہے۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عمر ایوب نے اپنے خط میں 9 مئی کے مقدمات اور عدالتی نظام کے مبینہ استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس عمر ایوب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس یحیی ا فریدی چیف جسٹس عمر ایوب چیف جسٹس عمر ایوب
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔