بلال بن ثاقب اور بو ہائنس کی ملاقات، پاک امریکا ڈیجیٹل شراکت داری کی نئی راہ ہموار
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
واشنگٹن میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے کرپٹو اور بلاک چین، بلال بن ثاقب اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کونسل آف ایڈوائزرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بو ہائنس کی اہم ملاقات ہوئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان ڈیجیٹل شراکت داری کا نیا باب قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’دنیا کو ٹیسلا اور ٹرمپ ایک ہی گروپ چیٹ میں چاہییں‘،بلال بن ثاقب کی ایلون مسک کے والد سے ملاقات
ملاقات میں عالمی سطح پر کرپٹو پالیسیوں میں ہم آہنگی، اور پاکستان کو ویب 3 ٹیکنالوجی کا علاقائی مرکز بنانے جیسے اہم نکات پر گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر بلال بن ثاقب نے پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جاری کوششوں اور بلاک چین کے انضمام پر روشنی ڈالی۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا نے اپنے ڈیجیٹل اثاثہ جات کے فریم ورک کا اعلان کیا، جسے عالمی سطح پر ضابطہ سازی کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان اور امریکا کی اس صف بندی کو نہ صرف تجارتی بلکہ کرپٹو قانون سازی میں بھی ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا ڈیجیٹل انقلاب، بلال بن ثاقب نے بِٹ کوائن ریزرو کا اعلان کردیا
بلال بن ثاقب نے دورے کے دوران سینیٹر سنتھیا لومیس، ٹم شیہی، رِک سکاٹ، نیویارک سٹی کے میئر ایرک ایڈمز سمیت دیگر اہم قانون سازوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
بلال بن ثاقب پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کے سربراہ بھی ہیں، جو ملک میں ورچوئل اثاثوں کے ریگولیٹری ڈھانچے کی تشکیل اور قومی کرپٹو حکمت عملی کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بلال بن ثاقب بو ہائنس پاکستان کرپٹو کونسل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بلال بن ثاقب بو ہائنس پاکستان کرپٹو کونسل بلال بن ثاقب رہا ہے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔