پاکستان کے بلال بن ثاقب دنیا کے بااثر ترین کرپٹو رہنماؤں میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
— فائل فوٹو
پاکستان کے وزیر برائے کرپٹو و بلاک چین بلال بن ثاقب دنیا کے بااثر ترین کرپٹو رہنماؤں میں شامل ہوگئے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی تازہ ترین تحقیقی رپورٹ میں بلال بن ثاقب کو مشرق و مغرب کے درمیان پل قرار دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بلال بن ثاقب کو ان چند عالمی رہنماؤں میں شمار کیا گیا ہے جو کرپٹو، مصنوعی ذہانت اور مالیاتی سفارتکاری کے مستقبل کی تشکیل دے رہے ہیں۔
گزشتہ روز شائع ہونے والی رپورٹ میں بلال بن ثاقب کا نام 11 مرتبہ لیا گیا، جو وال اسٹریٹ جرنل کی ان کی قیادت اور عالمی سطح پر ٹیکنالوجی، جیو پولیٹکس، اور ڈیجیٹل فنانس کے سنگم پر ان کے کردار میں گہری دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں ان کا نام دنیا کی معروف شخصیات و سرمایہ کاروں کے ساتھ لیا گیا۔
رپورٹ میں انہیں بلاک چین کے دور کے ایک نئے طرز کے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے بلال بن ثاقب کو دنیا کی آزادی کے لیے سفر کرنے والا سفیر قرار دیا اور ان کے بطور سربراہ پاکستان اسٹیٹ کرپٹو کونسل اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو و بلاک چین خدمات کو سراہا۔
بلال بن ثاقب حال ہی میں یاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو میں دیکھے گئے، جہاں انہوں نے عالمی رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور مصنوعی ذہانت کے موجدوں سے ملاقاتیں کیں۔
ماہرین کے مطابق وال اسٹریٹ جرنل میں پاکستان کا ذکر محض علامتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وال اسٹریٹ جرنل بلال بن ثاقب رپورٹ میں
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔