عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنا آئین، قانون اور انسانیت کی توہین ہے، حلیم عادل شیخ
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ ریاست اپوزیشن اتحاد اور جمہوری تحریک کو روکنے کے لیے بوکھلاہٹ کا شکار ہے، پوری قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، قوم نے مہنگائی، کرپشن اور جبر کے خلاف عمران خان کو اپنی امید بنایا ہے، وقت آنے والا ہے جب عوام ظلم کے سامنے دیوار بن جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنا آئین، قانون اور انسانیت کی توہین ہے، سابق وزیراعظم اور اس قوم کے عظیم لیڈر کو دو سال سے بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات میں قید رکھا گیا ہے، جہاں انہیں نہ صرف قانونی، بلکہ انسانی اور اخلاقی حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ ٹرائلز، اہلخانہ، وکلا اور ڈاکٹروں سے ملاقات کی بندش غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، عمران خان کو ایک ایسے ماحول میں رکھا گیا ہے جہاں ان کی جسمانی اور ذہنی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے، یہ سب کچھ سیاسی انتقام اور دباؤ کے تحت ہو رہا ہے تاکہ عمران خان کو جھکایا جا سکے لیکن عمران خان اس ملک و قوم کے حقوق کے لئے ڈٹے ہوئے ہیں۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ جیل میں سہولیات کی بندش، روزانہ 22 گھنٹے قید تنہائی اور ڈاکٹروں تک رسائی نہ دینا کھلی ریاستی زیادتی ہے، ایسی خفیہ عدالتیں جو ملزم کے وکلا اور اہلخانہ کو مقدمے میں شریک نہ کریں، انصاف کا نہیں بلکہ فسطائیت کا مظہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کے حالیہ فیصلے، جن میں پی ٹی آئی قیادت کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں، عدلیہ پر دبا اور آئین و انصاف کے منہ پر طمانچہ ہیں یہ تمام فیصلے 5 اگست کی تحریک کو دبانے کی کوشش ہیں، مگر ہم ان ہتھکنڈوں سے گھبرانے والے نہیں، 5 اگست کو ملک بھر میں بھرپور عوامی تحریک کا آغاز ہوگا، جس میں سندھ کے تمام اضلاع میں احتجاج کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمران خان کو نے کہا کہ
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :