تقریب سے خطاب میں وزیر توانائی سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اس پر پہلے ہی قانون سازی کرچکے ہیں، اس دفعہ بلوچستان میں بھی پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، یہ قانون بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق ہے اور ہم پرامید ہیں وزیراعلی بلوچستان بھی اس قانون میں ضرور معاونت کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی وزیر توانائی، ترقیات و منصوبہ بندی سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کم عمری اور جبری شادی کے حوالے سے بنائے گئے قانون سازی پر سب سے زیادہ عملدرآمد ہمارے صوبے میں کیا جارہا ہے اور چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں یہ قانون سختی سے نافذ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹس کونسل کراچی میں کم عمری اور جبری شادی کے حوالے سے صوبائی سطح پر آگاہی پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں کیا۔  تقریب کا انعقاد ایس پی او اور خیرپور، جیکب آباد کی سول سوسائٹی تنظیموں نے کیا تھا۔ جمیل اصغر بھٹی منیجر پروجیکٹس اور گرانٹس (SPO)، منزہ علی صاحبہ کنٹری منیجر (Save the Children)، صائمہ آغا پارلیمانی سیکریٹری برائے اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ تقریب میں روائٹی اور ثقافتی اشیا کے اسٹال نمائش کے لئے لگائے گئے تھے۔ ناصر حسین شاہ نے لگائے گئے اسٹالز پر رکھی گئی مصنوعات کو دیکھا اور کام کو سراہا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ایک بہت اہم موضوع کا یہ پروگرام ہے جس کے تحت شعور و آگاہی دی جارہی ہے، سول سوسائٹی کی اس کاوش کو سراہتے ہیں اور سندھ حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ہماری خواہش ہے کہ سکھر میں بھی یہ پروگرام شروع کیا جانا چاہیئے، خیرپور اور جیکب آباد کے پسماندہ علاقوں میں یہ پروگرام بہت اچھے انداز میں جاری ہے، سندھ حکومت اس پر پہلے ہی قانون سازی کرچکے ہیں، اس دفعہ بلوچستان میں بھی پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت ہے، یہ قانون بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق ہے اور ہم پرامید ہیں وزیراعلی بلوچستان بھی اس قانون میں ضرور معاونت کریں گے، اس قانون سازی پر سب سے زیادہ عملدرآمد سندھ میں ہوا ہے، قانون سازی دیگر صوبوں میں بھی ہوئی ہے امید ہے اس پر عمل ہوگا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ناصر حسین شاہ میں بھی

پڑھیں:

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

یہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثر

یہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔

نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعمل

امریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔

برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔

جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔

دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی

دریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔

امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن