وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کا اجلاس، جشنِ آزادی بھرپور انداز میں منانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے، اور ہم اس قومی جذبے کو یومِ آزادی کی تقریبات کے ذریعے مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں، تمام یونیورسٹیز اپنے اداروں اور کلاس رومز کو قومی وقار کے مطابق سجائیں، ثقافتی پروگرام، کھیلوں کے مقابلے، مباحثے اور ادبی تقریبات منعقد کریں۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبے بھر کی سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں جشنِ آزادی 2025ء کو قومی وقار کے مطابق شایانِ شان انداز سے منانے کے لیے مختلف تجاویز اور فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، محمد بخش مہر، ذوالفقار شاہ، سیکریٹری وزیراعلیٰ ایم رحیم شیخ، چیئرمین ایچ ای سی سندھ پروفیسر طارق رفیع اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے، جبکہ 30 سرکاری اور 34 نجی جامعات کے وائس چانسلرز یا پرو وائس چانسلرز نے ذاتی طور پر یا ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے بھارت کے خلاف معرکۂ حق میں پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے، اور ہم اس قومی جذبے کو یومِ آزادی کی تقریبات کے ذریعے مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جشنِ آزادی کے پروگرام یکم اگست سے شروع ہوں گے۔ انہوں نے تمام یونیورسٹیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اداروں اور کلاس رومز کو قومی وقار کے مطابق سجائیں، ثقافتی پروگرام، کھیلوں کے مقابلے، مباحثے اور ادبی تقریبات منعقد کریں۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ جو ادارہ، یونیورسٹی یا دکاندار بہترین سجاوٹ اور تقریبات کا انعقاد کرے گا، سندھ حکومت اس کی حوصلہ افزائی کے لیے انعام دے گی۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اجلاس کو مختلف صوبائی اور نجی اداروں کی طرف سے ترتیب دیے گئے پروگرامز سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے چیئرمین ایچ ای سی سندھ کو ہدایت کی کہ یونیورسٹیوں کے انفرادی اور بین الجامعاتی پروگراموں کا شیڈول ترتیب دیا جائے، تاکہ تقریبات میں جامعہ جاتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ اجلاس میں تمام جامعات کی جانب سے اپنی تجاویز بھی پیش کی گئیں اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جشنِ آزادی کو پوری شان و شوکت، قومی جذبے اور جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وائس چانسلرز
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔