Jang News:
2026-07-24@16:03:08 GMT

سیاح کو ہنزہ میں دیوار پر اپنا نام لکھنا مہنگا پڑگیا

اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT

سیاح کو ہنزہ میں دیوار پر اپنا نام لکھنا مہنگا پڑگیا

فوٹو بشکریہ انسٹاگرام

مون سون کے موسم میں ہنزہ کی سیر کو گیا ایک سیاح سڑک کے کنارے دیوار پر اسپرے پینٹ سے اپنا نام لکھنے کے بعد مشکل میں پڑگیا۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہنزہ میں صاف سٹھری دیوار پر اسپرے پینٹ سے اپنا نام لکھتے ہوئے ایک سیاح کو کچھ لوگوں نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا جس کے بعد مقامی پولیس نے بروقت مداخلت کی۔

پولیس نے سیاح سے دیوار صاف کروائی اور اپنے رویے کے لیے عوامی طور پر معافی مانگنے کے لیے بھی کہا۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور اس پر صارفین کی جانب سے پاکستان کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے سخت قوانین کے نفاذ اور سزاؤں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا

پیٹرول کی یومیہ قیمتیں بڑھنے سے شہری پریشان اور مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

حکومت کی جانب سے قیمتوں کے یومیہ تعین کا نظام نافذ ہونے کے بعد سے آج 24 مئی تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا۔

 پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے مہنگائی  کی چکی میں پسی ہوئی عوام  زندہ  رہنے کے لیے صرف سانسیںلے رہے ہیں کیونکہ  روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ آخری بار گاڑی یا موٹرسائیکل کی ٹنکی کب مکمل بھروائی تھی۔

اس دوران یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ 90 فیصد شہریوں کو یہ یاد ہی نہیں تھاکہ انہوں نے آخری بار کب اپنی گاڑی کی ٹنکی فُل کروائی ہے۔

 گاڑی میں  سوار شہری اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ میں نے دو ہزار کا تو کبھی  تین ہزار اگر  بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پیٹرول ڈلوایا تھا  جبکہ موٹر سائیکل سوار  تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔

شہر کے مختلف پمپس کے دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کچھ  موٹرسائیکل سواروں  2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا  جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی  زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں، مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ

6 روز میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 63 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا

 کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹنکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار  کا تو کبھی  ڈھائی ہزار کا پیٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم مصںوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی وجہ سے بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کرتا ہوں یا پھر کوئی ہنگامی حالت ہو تو نکل جاتا ہوں۔

پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پیٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے اور اب تو پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے۔

انہوں نے کہا کہ تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے بجلی کے بل پہلے جو پیٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو   پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے۔

مالک نے کہا کہ اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ  اکثر گھروں میں  تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹنکی فل کرانا صرف ایک خواہش  ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین، 6 دن میں پیٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے مہنگا
  • پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری