دہلی کی مشہور ’مکھن ملائی‘ پر چوہے کا ’خصوصی گشت‘، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
بھارت میں کھانے پینے کی اشیاء کی صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات سے متعلق ویڈیوز اکثر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں۔ بازاروں، ڈھابوں اور گلی محلوں میں فروخت ہونے والے کھانوں میں حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی عام ہے۔
عوامی مقامات پر تیار کیے جانے والے کھانوں میں استعمال ہونے والے برتن، پانی اور اجزاء کی حالت اکثر غیر معیاری ہوتی ہے، اور کئی مرتبہ ان میں مضرِ صحت اشیاء شامل ہونے کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں بھارت کی ایک مشہور دکان پر ’مکھن ملائی‘ تیار کی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کھانے کی تیاری کے دوران ایک چوہا ملائی کے اوپر سے گزر رہا ہے، جسے کھانا بنانے والا شخص ہاتھ سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔
انڈیا کے شہر دہلی کی سب سے مشہور "مکھن ملائی".
— Ather Salem® (@AthSa01) August 1, 2025
بعد ازاں ویڈیو میں ایک شخص کو وہی ملائی کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس پر چوہا گزرا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انڈیا کے شہر دہلی کی سب سے مشہور ’مکھن ملائی‘ دیکھیں کتنی صفائی ہے اور کتنے خوبصورت طریقے سے بنائی جاتی ہے جبکہ کئی صارفین نے صفائی کے ناقص انتظامات پر سوالات اٹھائے۔
واضح رہے کہ انڈیا کے متعدد ہوٹلوں میں گندگی معمول بن گئی ہے، سوشل میڈیا پر آئے روز ایسی ویڈیوز گردش کرتی رہتی ہیں جس میں کبھی کھانے پینے والی اشیا کے ساتھ منفرد تجربات کیے جاتے ہیں تو کبھی عجیب و غریب پکوان سوشل میڈیا کی زینت بنتے ہیں جیسے پیپسی والی چائے، مرچوں سے بنا حلوہ اور آئس کریم پکوڑہ وغیرہ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کھانے بھارت میں صفائی بھارتی کھانے کھانے پر چوہا مکھن ملائی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈین کھانے بھارت میں صفائی بھارتی کھانے مکھن ملائی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔