بھارت میں کھانے پینے کی اشیاء کی صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات سے متعلق ویڈیوز اکثر سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں۔ بازاروں، ڈھابوں اور گلی محلوں میں فروخت ہونے والے کھانوں میں حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی عام ہے۔

عوامی مقامات پر تیار کیے جانے والے کھانوں میں استعمال ہونے والے برتن، پانی اور اجزاء کی حالت اکثر غیر معیاری ہوتی ہے، اور کئی مرتبہ ان میں مضرِ صحت اشیاء شامل ہونے کے شواہد بھی سامنے آ چکے ہیں۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں بھارت کی ایک مشہور دکان پر ’مکھن ملائی‘ تیار کی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کھانے کی تیاری کے دوران ایک چوہا ملائی کے اوپر سے گزر رہا ہے، جسے کھانا بنانے والا شخص ہاتھ سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔

انڈیا کے شہر دہلی کی سب سے مشہور "مکھن ملائی".

دیکھیں کتنی صفائی ہے اور کتنے خوبصورت طریقے سے بنائی جاتی ہے pic.twitter.com/59F4oYleDT

— Ather Salem® (@AthSa01) August 1, 2025

بعد ازاں ویڈیو میں ایک شخص کو وہی ملائی کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس پر چوہا گزرا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔

ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انڈیا کے شہر دہلی کی سب سے مشہور ’مکھن ملائی‘ دیکھیں کتنی صفائی ہے اور کتنے خوبصورت طریقے سے بنائی جاتی ہے جبکہ کئی صارفین نے صفائی کے ناقص انتظامات پر سوالات اٹھائے۔

واضح رہے کہ انڈیا کے متعدد ہوٹلوں میں گندگی معمول بن گئی ہے، سوشل میڈیا پر آئے روز ایسی ویڈیوز گردش کرتی رہتی ہیں جس میں کبھی کھانے پینے والی اشیا کے ساتھ منفرد تجربات کیے جاتے ہیں تو کبھی عجیب و غریب پکوان سوشل میڈیا کی زینت بنتے ہیں جیسے پیپسی والی چائے، مرچوں سے بنا حلوہ اور آئس کریم پکوڑہ وغیرہ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کھانے بھارت میں صفائی بھارتی کھانے کھانے پر چوہا مکھن ملائی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انڈین کھانے بھارت میں صفائی بھارتی کھانے مکھن ملائی

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • جھانوی کپور کی وائرل ویڈیو، پروموشنل ایونٹ میں خوفزدہ ردعمل
  • رام چرن کا ہمشکل جنونی مداح جھانوی کپور پر جھپٹ پڑا، ویڈیو وائرل
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت