چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی بنگلا دیشی وزیر کھیل سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ و چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی بنگلا دیش کے وزیر کھیل، امور نوجوانان، لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی آصف محمود سے ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں خصوصا کرکٹ کے فروغ و امپائرز ڈویلپمنٹ پروگرامز کے لیے تعاون پر اتفاق کیا گیا۔چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بنگلا دیش کے امپائرز کو پاکستان میں ٹریننگ کی دعوت دی جبکہ وویمنز کرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرامز کے لیے اشتراک کار بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔ فیصلہ کیا گیا کہ اسپورٹس کے فروغ کے لیے پی سی بی اور بی سی بی میں باقاعدہ معاہدہ کیا جائے گا۔ملاقات میں نوجوانوں کی اسکلز ڈویلپمنٹ اور روزگار سے متعلق مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اعلی تعلیم، اسکالر شپ پروگرامز اور تعلیمی میدان میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے پر بھی گفتگو کی گئی۔ سولر انرجی میں جدت اور باہمی تعاون بڑھانے کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔محسن نقوی نے شناختی دستاویزات کو فول پروف بنانے خصوصا نادرا کے محفوظ سکیورٹی نظام سے متعلق بتایا۔ بنگلا دیشی وزیر آصف محمود نے نادرا کے نظام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے بنگلا دیش کے وفد کو نادرا کے دورے کی دعوت دی، بنگلا دیش کا اعلی سطح کا وفد جلد پاکستان آئے گا اور نادرا کا دورہ کرے گا۔اس موقع پر، محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش کی زیادہ تر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اسپورٹس سرگرمیوں کے فروغ سے یوتھ ڈویلپمنٹ کے مواقع سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ملاقات بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات خصوصا نوجوانوں، کھیل، تعلیم اور تجدید پذیر توانائی کے شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی امید کو تقویت دیتی ہے۔بنگلا دیش کی وزارت اسپورٹس و یوتھ کے سیکریٹری محبوب العالم، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ رضاالمقصود، پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور محمد واصف، کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن، منیجر نوید اکرم چیمہ اور اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے بنگلا دیش پی سی بی
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔