سندھ حکومت نے یوم آزادی کو معرکہ حق کے عنوان سے منانے کا اعلان کرتے ہوئے جامعات، ادارے، دکان اور گھروں کی سجاوٹ کرنے والوں کو انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کی 64 جامعات کے وائس چانسلرز نے شرکت کی۔ ان میں 30 سرکاری اور 34 نجی جامعات شامل تھیں۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یوم آزادی کو "معرکہ حق" کے عنوان سے بھرپور طریقے سے منایا جائے گا جس کے لیے ایک جامع پروگرام ترتیب دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے تعلیم، ثقافت، کھیل اور ادبی سرگرمیوں کے انعقاد اور نوجوانوں میں حب الوطنی کو فروغ دینے پر زور دیا۔

اجلاس میں صوبائی وزرا شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، سعید غنی، محمد بخش مہر اور ذوالفقار شاہ کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ کے سیکریٹری محمد رحیم شیخ اور سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین پروفیسر طارق رفیع نے بھی شرکت کی۔

وزیراعلی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی بہادری سے قوم کو فخر کا موقع دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کی فتح اور آزادی کی خوشی کو مزید بڑھانے کے لیے حکومت نے ایک ہمہ جہتی منصوبہ تیار کیا ہے۔

مراد علی شاہ  نے اعلان کیا کہ یوم آزادی کی تقریبات یکم اگست سے شروع کی جائیں گی۔ تمام جامعات اپنی عمارات اور کلاس رومز کو قومی وقار کے مطابق سجائیں اور متعلقہ پروگرامز کا انعقاد کریں۔

وزیراعلیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ جو بھی جامعہ، ادارہ، دکان دار یا کسی اور شعبے سے وابستہ فرد بہترین سجاوٹ کرے گا، اسے انعام دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے جامعات کو ہدایت دی کہ کھیل، ثقافت، مباحثے اور ادبی سرگرمیوں کے شیڈول مرتب کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ اور چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن سندھ طارق رفیع کو ہدایت دی کہ وہ علیحدہ اور بین الجامعاتی پروگرامز کا انعقاد یقینی بنائیں۔

اجلاس کے ایجنڈے میں جامعات کی تجاویز کو شامل کیا گیا جبکہ صوبے بھر میں شجرکاری مہم شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے صوبے کے مختلف سرکاری و نجی اداروں میں مجوزہ پروگرامز پر بریفنگ دی۔

اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ یوم آزادی کو بھرپور جذبے اور وقار کے ساتھ منایا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جائے گا

پڑھیں:

وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے

اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم