چین پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کا خواہاں
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
چین نے پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے خاص طور پر بیجوں کی ترقی، سمارٹ آبپاشی کے نظام اور زرعی پروسیسنگ میں۔اس دلچسپی کا اظہار زرعی سائنسدانوں اور نجی شعبے کے نمائندوں پر مشتمل چینی وفد نے منگل کو اسلام آباد میں وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین سے ملاقات میں کیا۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان زراعت کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے اور پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
وفد نے زراعت میں چین کی تکنیکی ترقی پر روشنی ڈالی اور ادارہ جاتی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کو مہارت منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔وزیر نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر زراعت کے شعبے میں، جو قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تعاون کے ذریعے پاکستان سائنسی تحقیق، آب و ہوا سے مزاحم طرز عمل اور جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا سکتا ہے جو مقامی کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گا اور طویل مدتی غذائی تحفظ کو یقینی بنائے گا۔رانا تنویر حسین نے بائیو ٹیکنالوجی، فصلوں کی بہتری، کیڑوں پر قابو پانے اور پائیدار زرعی طریقوں میں مشترکہ تحقیق کے لیے پاکستانی اور چینی زرعی اداروں کے درمیان باضابطہ معاہدوں کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے پاکستان کے زرعی اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے سائنسدانوں کے تبادلے، تکنیکی تربیت، اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے لیے طویل مدتی فریم ورک کے قیام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔وزیر نے PARC اور دیگر محکموں کے عہدیداروں کو تعاون کے مجوزہ شعبوں کا خاکہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔چینی وفد نے باضابطہ مفاہمت ناموں کی تجویز کا خیرمقدم کیا اور ادارہ جاتی روابط اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیاری کا اظہار کیا۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کے زرعی کے لیے
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
راؤ دلشاد:پنجاب حکومت کے کسان کارڈ پروگرام کے تحت صوبے میں پہلی بار 8 لاکھ 32 ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جس کے ذریعے کسانوں کو زرعی مداخل کی خریداری اور مالی معاونت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 8 لاکھ 32 ہزار کاشتکار کسان کارڈ کے ذریعے 2 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد کے زرعی قرضے استعمال کر چکے ہیں۔ گندم کے سیزن کے دوران کاشتکاروں نے کسان کارڈ کے ذریعے 100 ارب روپے مالیت کی زرعی مداخل خریدیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکام کے مطابق 5 لاکھ 38 ہزار کاشتکاروں سے 67 ارب روپے کی رقم قابل وصول تھی، جس میں سے 86 فیصد ریکوری کا ریکارڈ قائم کیا گیا۔ کاشتکاروں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 57 ارب روپے کی اقساط بھی ادا کر دی ہیں۔
خریف سیزن کے لیے کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو 90 ارب روپے کی سہولت فراہم کی گئی، جبکہ 3 لاکھ کاشتکاروں نے 30 ارب روپے مالیت کی زرعی مداخل اسی پروگرام کے تحت حاصل کیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کسان کارڈ کے ذریعے پنجاب کے کاشتکاروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا کاشتکار اب کسی آڑھتی کا مقروض نہیں ہوگا بلکہ باعزت اور خودمختار زندگی گزار سکے گا۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
مریم نواز مزیدنے کہا کہ کاشتکاروں کو مالی خودمختاری اور خوشحالی کی راہ پر گامزن دیکھنا ان کا خواب ہے، اور حکومت زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی فلاح کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے گی۔