ہماری کسی سے لڑائی نہیں، ملک آئین و قانون کے مطابق چلایا جائے، محمود اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت میں اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کہنا تھا کہ قائداعظم ایک آئینی ماہر تھے، 1940ء کی قرارداد ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا، قراردادِ لاہور میں آزاد ریاستوں کی بات کی گئی تھی، ہمارے اکابرین 23 مارچ کو یومِ جمہوریت کے طور پر مناتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود اچکزئی نے کہا ہے کہ ہماری کسی سے کوئی لڑائی نہیں ہے، ملک کو آئین و قانون کے مطابق چلایا جائے۔ وفاقی دارالحکومت میں اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس ایک کروڑ سے زائد لوگوں نے دیکھی، یہ عوامی شعور اور پاکستان کے مسائل پر گفتگو کی بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم ایک آئینی ماہر تھے، 1940ء کی قرارداد ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا، قراردادِ لاہور میں آزاد ریاستوں کی بات کی گئی تھی، ہمارے اکابرین 23 مارچ کو یومِ جمہوریت کے طور پر مناتے تھے۔ سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے اقلیت کے حقوق کے تحفظ کے لیے قرارداد پیش کی، آئین مقدس سہی لیکن انسانی ضروریات اس سے بھی مقدم ہیں۔ محمود خان اچکزئی کا مزید کہنا تھا کہ ہماری کسی سے کوئی لڑائی نہیں ہے، ملک کو آئین و قانون کے مطابق چلایا جائے، عوام بھوکے مر رہے ہیں، لوگوں کو انصاف دیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہنا تھا کہ
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔