گوگل کا نیا سنگ میل، ’جیمنی 2.5 ڈیپ تھنک‘ ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
گوگل ڈیپ مائنڈ نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے اپنا جدید ترین ماڈل ’جیمنی 2.5 ڈیپ تھنک‘ متعارف کرا دیا ہے، جو کمپنی کی جانب سے پہلا ’ملٹی ایجنٹ‘ ماڈل قرار دیا جارہا ہے۔
یہ ماڈل سب سے پہلے گوگل آئی او 2025 میں منظرِ عام پر آیا اور اب گوگل کے 250 ڈالر ماہانہ کے ’الٹرا سبسکرپشن‘ صارفین کے لیے جیمنی ایپ پر دستیاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیوز میں ڈھلتی تصویریں، گوگل نے پاکستان میں جدید اے آئی ٹولز ویو 3 اور فلو متعارف کرادیا
’جیمنی 2.
یہ ماڈل دیگر ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ کمپیوٹیشنل وسائل استعمال کرتا ہے، مگر نتائج کہیں زیادہ درست اور مؤثر فراہم کرتا ہے۔
Try Deep Think in the @GeminiApp today if you’re a Google AI Ultra subscriber.
Deep Think can help people tackle problems that require creative problem solving, strategic planning and making improvements step-by-step like iterative development and design, scientific and… pic.twitter.com/YskJvIwIBL
— Google (@Google) August 1, 2025
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ماڈل کے ایک متبادل ورژن کی مدد سے گوگل نے حال ہی میں انٹرنیشنل میتھ اولمپياد میں گولڈ میڈل جیتا ہے۔ تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ وہ ورژن چند منتخب ماہرین کو دیا جائے گا کیونکہ اسے کسی مسئلے پر غور و فکر کے لیے گھنٹوں درکار ہوتے ہیں، جبکہ دیگر ماڈلز چند منٹوں میں جواب دے دیتے ہیں۔
گوگل کا دعویٰ ہے کہ ’جیمنی 2.5 ڈیپ تھنک‘ نے کارکردگی کے اعتبار سے نہ صرف اوپن اے آئی اور گرُوک اے آئی جیسے ماڈلز کو پیچھے چھوڑا بلکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کے کئی بڑے کھلاڑیوں سے بہتر نتائج حاصل کیے۔
یہ بھی پڑھیں: پیچیدہ سوالات کے جوابات کے لیے گوگل کا نیا فیچر ’اے آئی موڈ‘ سرچز متعارف
یاد رہے کہ ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی (گروک 4 ہیوی) اور انتھروپک سمیت دیگر ادارے بھی ملٹی ایجنٹ ماڈلز پر تجربات کررہے ہیں، تاہم زیادہ لاگت اور مہنگے سبسکرپشن ماڈلز اس ٹیکنالوجی کی عوامی سطح پر رسائی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
گوگل نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جلد ہی ’جیمنی 2.5 ڈیپ تھنک‘ کو جیمنی اے پی آئی کے ذریعے منتخب ڈویلپرز اور کاروباری اداروں کے لیے بھی فراہم کرے گا تاکہ وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ کی جاسکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انٹرنیشنل میتھ اولمپياد اے آئی جیمنی ڈیپ تھنک گوگل گوگل ڈیپ مائنڈ گولڈ میڈل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی ڈیپ تھنک گوگل گولڈ میڈل گوگل کا اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثناءاللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے۔ اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے عناصر کو اخلاقیات، دیانت داری اور شفافیت پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ ہوش کے ناخن لیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کریں کیونکہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر الزام اور ہر بیان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو پہلے شریف خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی سیاست ہمیشہ سہاروں، ڈیلز اور مفاہمت پر قائم رہی ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے وسائل پر نظر رکھنے والے سیاسی عناصر پہلے اپنے طرزِ سیاست کا جائزہ لیں، جس جماعت کی بنیاد، ان کے بقول، جمہوری اقدار کی مخالفت پر استوار رہی ہو، وہ پیپلز پارٹی کو عوامی مینڈیٹ اور سیاسی شعور کا درس نہ دے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور الزامات کی سیاست سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافے کے بعد اس نوعیت کی سیاست مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔