نادرا کا معمر شہریوں کے لیے فیس ریکگنیشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک :نادرا کے ترجمان شباہت علی نے کہا ہے کہ بزرگ شہریوں کو فنگر پرنٹس کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، اس لیے نادرا اب ان کے لیے فیس ریکگنیشن کا جدید نظام متعارف کروا رہا ہے۔
نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ بڑی عمر کے افراد کے فنگر پرنٹس کے مسائل حل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی فیس ریکگنیشن کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے، جو آئندہ دنوں میں فعال کر دیا جائے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نےڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ کو معطل کر دیا
شناخت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور بچے کی پیدائش کے وقت اس کی رجسٹریشن نہ کروانا، اس کے حق سے محرومی کے مترادف ہے۔ اس ان کے مطابق نادرا کی پالیسی کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے جووینائل کارڈ جاری کیا جاتا ہے، جس کی معیاد 18 سال تک ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ بچوں کے شناختی کارڈ کے لیے والدین میں سے کسی ایک کا شناختی کارڈ لازمی ہے۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک کسی وجہ سے موجود نہ ہو تب بھی دوسرے والد یا والدہ کے شناختی کارڈ کی بنیاد پر بچے کا شناختی کارڈ جاری کیا جا سکتا ہے۔
جب انکم ٹیکس مسلط نہیں کر سکتے تو سپر ٹیکس کیسے مسلط کر سکتے ہیں، جج سپریم کورٹ
شباہت علی نے بتایا کہ کراچی کے نادرا سینٹرز میں اس وقت مجموعی طور پر 359 کاؤنٹرز موجود ہیں، جنہیں مزید بڑھانے کی منصوبہ بندی جاری ہے تاکہ شہریوں کو بآسانی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ترجمان نادرا نے یہ بھی کہا کہ نکاح اور طلاق جیسے معاملات میں بھی نادرا کے ریکارڈ کے لیے ضروری دستاویزات درکار ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق طلاق کی صورت میں یونین کونسل سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ فراہم کرنا لازمی ہے تاکہ ریکارڈ درست اور مکمل رکھا جا سکے۔
لاہور کے مختلف علاقوں سے خاتون سمیت4 افراد کی لاشیں برآمد
شباہت علی کا کہنا تھا کہ نادرا شہریوں کی سہولت کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے اور آنے والے دنوں میں مزید جدید سہولیات متعارف کروائی جائیں گی تاکہ عوامی مسائل کم سے کم ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔