ایپل نے آئی فون سمیت دیگر ڈیوائسز کیلئے نیا آپریٹنگ سسٹم متعارف کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آئی فون سمیت اپنی دیگر ڈیوائسز کے لیے نیا سافٹ ویئر جاری کر دیا۔
کمپنی کی تازہ ترین اپ ڈیٹس ڈاؤن لوڈنگ کے لیے دستیاب ہیں جن میں آئی فون کے لیے آئی او ایس 26 اور میک، آئی پیڈ، ٹی وی اور اسمارٹ واچ کے لیے نئے آپریٹنگ سسٹم شامل ہیں۔
ایپل کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ان سب کے ایک جیسے ورژن نمبر ہیں۔ ایپل نے چند ماہ قبل اعلان کیا تھا کہ کمپنی اپنے آپریٹنگ سسٹمز کا نام ریلیز کے بعد آنے والے برس پر رکھے گی۔
نئی اپ ڈیٹ میں ایپل کی جانب سے متعدد نئی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں لیکن ان میں سب سے اہم نئے ’لیکوئڈ گلاس‘ کی اپ ڈیٹ ہے جو پورے سسٹم پر منعکس ہو رہی ہے۔
یہ ایک نیا لُک ہے جس نے ہوم اسکرین ایپ آئکون سے لے کر نوٹیفیکیشن کے ظاہر ہونے تک ہر چیز بدل دی ہے۔ سسٹم میں موجود کچھ ایپس میں بھی بڑی تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔