Islam Times:
2026-07-23@23:34:03 GMT

الیکشن کمیشن آف انڈیا ووٹ چوری میں ملوث ہے، راہل گاندھی

اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT

الیکشن کمیشن آف انڈیا ووٹ چوری میں ملوث ہے، راہل گاندھی

کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہماری یہ چھان بین چھ ماہ تک چلی اور جو ثبوت ہمارے ہاتھ آئے ہیں وہ کسی "ایٹم بم" سے کم نہیں، اگر یہ بم پھٹا تو الیکشن کمیشن پورے ملک میں کہیں دکھائی نہیں دیگا۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس لیڈر اور پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کے احاطے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کئے۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں جاری ایس آئی آر یعنی ووٹر لسٹ کی خصوصی جانچ دراصل ووٹوں کی چوری کی ایک سازش ہے، جس میں خود الیکشن کمیشن ملوث ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہمارے پاس کھلے اور بند ثبوت ہیں کہ الیکشن کمیشن ووٹوں کی چوری کروا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی افسر اس عمل میں شامل ہے، چاہے وہ اوپر کے عہدے پر ہو یا نیچے، ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے اسے ملک کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ غداری سے کم نہیں۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ ہمیں مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر کے انتخابات میں دھاندلی کا شک تھا۔ مہاراشٹر میں ایک کروڑ ووٹرز اچانک بڑھ گئے تھے، جب ہم نے تفصیل سے اپنی سطح پر چھان بین کی تو چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے۔

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ہماری یہ چھان بین چھ ماہ تک چلی اور جو ثبوت ہمارے ہاتھ آئے ہیں وہ کسی "ایٹم بم" سے کم نہیں، اگر یہ بم پھٹا تو الیکشن کمیشن پورے ملک میں کہیں دکھائی نہیں دے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس جانچ میں ان کی کوئی مدد نہیں کی، جس کے بعد کانگریس نے خود اپنی تفتیش کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ہم جلد ہی یہ ثبوت ملک کے سامنے رکھیں گے اور سب کو معلوم ہو جائے گا کہ الیکشن کمیشن ووٹ کس کے لئے چوری کروا رہا ہے، بی جے پی کے لئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ "اوپن اینڈ شٹ" کیس ہے، اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں۔

راہل گاندھی نے مزید کہا "میں یہ بات بالکل سنجیدگی سے کہہ رہا ہوں، جو بھی ریٹائرڈ ہو چکے ہوں یا ابھی عہدے پر ہوں، ہم انہیں ڈھونڈ نکالیں گے، کیونکہ وہ ہندوستان کے خلاف کام کر رہے ہیں اور انہیں جوابدہ بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی کو لے کر سیاسی ماحول گرم ہے۔ اپوزیشن اس عمل کو ووٹوں کی چوری قرار دے رہا ہے جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ عمل فرضی ووٹروں کو ہٹانے کے لئے کیا جا رہا ہے، یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت بھی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہ الیکشن کمیشن انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے کہا کہ ہم رہا ہے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن