اقوام عالم غزہ میں جنگ کی تباہ کاریاں دیکھ رہی ہے اور جنگ بند کرانے کے لیے کہیں سنجیدہ کارروائی نظر نہیں آ رہی حالانکہ 20روز پہلے کی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے لیے درکار شرائط مان لی ہیں جب کہ حماس نے بھی کہا تھا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ ’’حتمی‘‘ جنگ بندی تجویزکا جائزہ لے رہی ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹائمز نے بھی بتایا تھا کہ قطری ثالثوں نے دوحہ میں موجود حماس کی اعلیٰ قیادت سے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے لیے اپنے ذاتی ہتھیار حوالے کردیں۔لیکن یہ سب کچھ عملی صورت اختیار نہ کر سکا۔اب غزہ کی زمینی صورتِ حال بدستور خون ریزی میں ڈوبی رہی۔اسرائیل غزہ میںمسلسل وحشیانہ بمباری جاری رکھے ہوئے ہے ‘اسرائیل ٹارگٹڈ کارروائیاں کر کے غزہ میں فلسطینیوں کے گھر تباہ کر رہا ہے ‘غزہ کا زیادہ تر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ‘صورت حال اس حد تک خراب ہو گئی ہے کہ غزہ میں مقیم فلسطینیوں کے لیے غذائی قلت سنگین ہونے لگی ہے۔
کئی گھرانے فاقے سے دوچار ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اگلے روز بھوک سے مزید 10فلسطینی جان کی بازی ہار گئے۔اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ اب تک غذائی قلت سے اموات کی تعداد سو سے زیادہ ہو گئی جن میں80 بچے شامل ہیں۔7 اکتوبر 2023 سے اب تک6ہزار کے قریب فلسطینی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔میڈیا کے مطابق بدھ کی صبح سے غزہ کی پٹی پر مسلسل اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں‘ان حملوں سے 17فلسطینی شہری مارے گئے ہیں جب کہ مرنے والوں میں چار بچوں اور ایک شیر خوار بچہ بھی شامل ہے۔شہداء میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد بھی شامل ہیں۔
غزہ کی یہ صورت حال ہے۔ غزہ کو ایک منظم منصوبے کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ جب تک غزہ سے تمام فلسطینی انخلا پر تیار نہیں ہوں گے‘اسرائیل کی فوجی کارروائی جاری رہے گی جب کہ امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ بھی اس سلسلے میں مصلحت کوشی اختیار کرتے ہوئے چپ رہے گی کیونکہ صدر ٹرمپ بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ غزہ کوفلسطینیوں سے مکمل طور پر خالی کرانے کے حق میں ہیں اور اگر فلسطینی اس پر تیار ہو جائیں تو انھیں کسی متبادل جگہ پرآباد کرایا جا سکتا ہے اور اس کے لیے تمام فلسطینیوں کو پورا انفراسٹرکچر بھی تعمیر کر کے دیا جائے گا اور انھیں گھر بھی بنا کر دیے جائیں گے لیکن فلسطینی کسی بھی صورت میں غزہ خالی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ادھر 115 عالمی امدادی اداروں نے ایک دستخط شدہ انتباہی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں امداد کے مکمل محاصرے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بھوک پھیل رہی ہے۔غزہ میں موجود گوداموں میں کئی ٹن خوراک، پانی اور ادویات موجود ہیں لیکن امدادی اداروں کی ان تک رسائی کو روکا گیا ہے۔مکمل سیز فائر ،امداد کے لیے تمام زمینی راستوں کو فوری کھولا جائے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد کے منتظر شہریوں کا قتل ناقابلِ جواز ہے۔فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے مسلم ممالک اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ غزہ میں بھوک اور تباہی روکنے کی کوشش کریں۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی صدر قتل عام روکنے، بنا رکاوٹ امداد پہنچانے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں۔ اسلامی تعاون تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری غزہ میں فوری جنگ بندی کرائے۔اسلامی ممالک اسرائیلی مظالم کو عالمی سطح پر بے نقاب کریں۔ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے خبردار کیا ہے کہ روٹی کے ایک ٹکڑے یا گھونٹ پانی کے لیے فلسطینیوں کا مرنا ناقابلِ قبول ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ وہاں قحط ہر دروازے پر دستک دے رہا ہے اور بدترین غذائی قلت کے سبب لوگ مر رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران کی ایوین جیل پر اسرائیلی حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے فوری بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔
اقوام عالم کی لیڈر شپ اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام مسلسل غزہ کے لیے ہمدردانہ بیانات دے رہے ہیں ‘لیکن یہ بیانات محض بیانات ہی ہیں کیونکہ اسرائیل پر ان بیانات کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔اس قسم کے ہمدردانہ بیانات تو امریکا کے صدر بھی دیتے رہتے ہیں لیکن اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ عملی کام کیا جائے لیکن عملی کام کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے۔
روس اور چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ہیں اور ان کے پاس ویٹو پاور بھی ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ ان دو ممالک نے بھی اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر محض سفارتی حد تک ہی فلسطینیوں کی حمایت کی ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر کچھ نہیں کیاگیا ۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایسی دنیا جہاں تقسیم اور چیلنجز بڑھ رہے ہیں ہمیں تصادم کے بجائے تعاون اور طاقت کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے، پاکستان ان مشترکہ اہداف پر پیش قدمی کے لیے سب کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے، ہماری خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون کثیرالجہتی اور اقوام متحدہ کے ساتھ ہمارا مضبوط عہد ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج مقاصد اور اصول، خاص طور پر تنازعات کے پرامن حل اور طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز، بین الاقوامی انصاف کے لیے ناگزیر ہیں، یہی رہنما اصول پاکستان کی صدارت میں منعقدہ تقریبات کے لیے کلید رہیں گے۔
سلامتی کونسل میں پاکستان کی اس ماہ کی صدارت کے حوالے سے استقبالیہ تقریب میں اسحاق ڈار نے کہا عالمی امن و سلامتی صرف کثیرالجہتی، تنازعات کے پرامن حل، جامع مکالمے اور بین الاقوامی قانون کے احترام سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ سلامتی کونسل کو صرف ردعمل کا ایوان نہیں بلکہ روک تھام، مسائل کے حل اور اصولی قیادت کا فورم ہونا چاہیے۔
سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ اور مسئلہ فلسطین پر اپنی زیرصدارت مباحثے میں اسحاق ڈار نے کہا مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل ناگزیر ہے۔ غزہ میں انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے، ہر طرف بھوک اور افلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، سلامتی کونسل مسئلہ فلسطین کے حل میں اپنا کردار ادا کرے، پاکستان مسئلہ فلسطین کے لیے اصولی موقف، یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ غزہ میں انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی کو فوری ممکن بنایا جائے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنے چارٹر کے اعتبار سے بہت مضبوط ادارہ ہے۔ اس ادارے نے دنیا میں کئی اہم ممالک کے بارے میں متفقہ فیصلے کیے ہیں ‘کئی ملکوں کو آزادی بھی ملی ہے جس میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل دونوں میں اہم کردار ادا کیے ہیں۔ان میں انڈونیشیا سے آزاد ہونے والے ملک مشرقی تیمور کی مثال سب کے سامنے ہے۔ مشرقی تیمور کو آزادی ملی ہے ۔اسی طرح جنوبی سوڈان کو بھی ایک آزاد ملک کا درجہ ملا ہے لیکن فلسطینیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کا کردار زیادہ اہم نہیں رہا ہے۔
اس حوالے سے امریکا اور مغربی یورپ کے ممالک نے اقوام متحدہ کے ہر فورم میں اسرائیل کی حمایت میں ووٹ کاسٹ کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کے معاملات میں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کوئی کردار ادا نہیں کر سکا۔ تنازع کشمیر بھی ایسے ہی تنازعوں میں شامل ہے۔کشمیر کے حوالے سے بھی امریکا اور مغربی یورپ کے ممالک کی حکومتوں کا طرز عمل یکطرفہ چلا آ رہا ہے اور سب نے بھارت کی حمایت کی ہے۔
اقوام متحدہ اور طاقتور اقوام کی دہری اور امتیازی پالیسیوں کے باعث فلسطین میں مسلسل خونریزی جاری ہے حالانکہ اگر امریکا اور مغربی یورپ چاہیں تو فلسطین کا تنازع حل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسرائیل میں اتنی قوت نہیں ہے کہ وہ اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر فلسطینیوں کو دبا کر رکھے یا وہ اکیلا عرب ملکوں پر بھاری ہو سکے۔
اسرائیل دراصل امریکا کا ہی دوسرا نام ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی الیکشن مہم میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ غزہ کا تنازعہ حل کرائیں گے۔ لیکن وہ صدر بننے کے بعد تاحال اس تنازعے کو حل نہیں کرا سکے۔ امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے لیے یہ ایک نادر موقع ہے، وہ مشرق وسطی میں مستقل قیام امن کے لیے ایک بیلنس پالیسی اختیار کرے تاکہ جس کا جو حق ہے وہ مل سکے۔
اسرائیل کے مفادات کا تحفظ اصولی پالیسی نہیں ہے اور نہ ہی یہ پالیسی امریکا کے طویل المیعاد مفادات کے حق میں ہے۔ فلسطینیوں کی بقا کو بھی مساوی اہمیت دینا ہوگی۔ اس لیے ضروری ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کرائی جائے اور اس تنازعہ کا مستقل حل نکالا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل مسئلہ فلسطین ہے کہ غزہ میں کہا ہے کہ حوالے سے نہیں ہے ہے اور کے لیے تھا کہ رہا ہے کیا ہے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔