ٹک ٹاک نے پاکستانی صارفین کیلئے سیلابی موسم سے تحفظ کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
مقبول سوشل میڈیا ٹک ٹاک نے سیلابی موسم کے دوران پاکستانی صارفین کے تحفظ اور درست تفصیلات تک رسائی کیلئے ایک نیا فیچر متعارف کرادیا۔
ٹک ٹاک نے پاکستان میں مون سون کے سیلابی موسم کے دوران صارفین کو مستند اور تازہ ترین معلومات تک رسائی فراہم کرنے کی غرض سے ایک نئی سرچ گائیڈ متعارف کرائی ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اقدام پلیٹ فارم پر تحفظ اور حقائق پر مبنی آگاہی کو فروغ دینے کیلئے ٹک ٹاک کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کے تحت قدرتی آفات سے متعلق غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تصدیق شدہ معلومات فراہم کی جائیں گی۔
ٹک ٹاک پر جب صارفین سیلاب سے متعلق معلومات تلاش کریں گے، تو انہیں ایک بینر نمایاں طور پر نظر آئے گا جو معتبر ذرائع سے معلومات کی تصدیق کرنے کی ترغیب دے گا۔
یہ سرچ گائیڈ صارفین کو براہِ راست نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی تک رسائی فراہم کرے گی، جہاں سے پاکستان میں قدرتی آفات سے متعلق تصدیق شدہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس گائیڈ میں ٹک ٹاک کے سیفٹی سینٹر پردستیاب وسائل کا لنک بھی شامل ہے اور اسی کیساتھ ٹک ٹاک کی ٹریجک ایونٹ سپورٹ گائیڈ کا لنک بھی فراہم کیا گیا ، جو پریشان کن واقعات سے متاثرہ افراد کے لیے عملی مدد فراہم کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹک ٹاک
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔