Express News:
2026-07-24@05:10:02 GMT

مژگاں تو کھول۔۔۔!

اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT

پاکستان کا معاشرہ اجتماعی بے حسی اور احساس ذمے داری سے عاری ہوتا جا رہا ہے۔ اخلاقی گراوٹ بڑھ رہی ہے، انسانیت دم توڑ رہی ہے۔ دینی، سماجی اور معاشرتی اقدار پامال ہو رہی ہیں۔ قدم قدم تلخیاں جنم لے رہی ہیں،گھونٹ گھونٹ زندگی موت کی سسکیاں بھر رہی ہے۔ میٹھے رویے، نرم لہجے، انداز اور مروت، اپنائیت کا لمس کہیں کھوگیا ہے۔

رشتوں ناتوں اور تعلقات میں اس قدر دراڑیں پڑ چکی ہیں کہ اپنا اپنے سے بے زار ہے اور تنہائیوں کے خوف سے اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ کر آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔ عوام سے لے کر خواص تک سب ایک دوسرے سے شاکی اور ناراض نظر آتے ہیں۔ دنیا ترقی کر رہی ہے، ٹیکنالوجی کے انقلاب نے جہاں دنیا کے آب و گل کو چکا چوند کر دیا ہے وہیں انسان بے شمار مسائل، پریشانیوں اور مصیبتوں میں بھی گھرتا چلا جا رہا ہے۔ محبتوں اور چاہتوں کا دور عنقا ہو چکا ہے۔ مفادات اور خود غرضی ہر رشتے اور تعلق پر غالب آ چکی ہے جس کے مظاہر ہم آج کل اپنی روزمرہ زندگی میں نفرت سے دیکھ رہے ہیں۔

ابھی چند ماہ قبل گلیمر کی دنیا میں راج کرنے والی کہنہ مشق ٹی وی اداکارہ عائشہ خان نے جس کسمپرسی اور تنہائی کی قید میں موت کو گلے لگایا کہ اپنوں کو خبر تک نہ ہوئی۔ عائشہ خان کا اس طرح بے بسی میں زندگی کی بازی ہارنا رشتوں کے تعلق پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

اسی طرح زندگی کے کینوس میں رنگ بھرنے والی نوجوان ٹی وی آرٹسٹ حمیرا اصغر کی دل خراش موت نے تو اپنوں کی محبت، خبر گیری اور رشتوں کی مٹھاس کو انتہائی کڑواہٹ میں بدل دیا۔ حیرت انگیز طور پر گلیمر کی دنیا سے تعلق رکھنے والی حمیرا جس کے لاکھوں کی تعداد میں ’’ فالورز‘‘ بھی تھے اس قدر عبرت ناک انجام سے کیوں دوچار ہوئی کہ 8/9 ماہ تک پڑی رہی اور کسی نے اس کی خبر تک نہ لی۔ خونی رشتوں کی یہ بے حسی خاندانی نظام کی تلخیوں اور شکست و ریخت کی علامت ہے۔

بلوچستان میں فرسودہ رسموں میں جکڑے جرگہ نظام کے ایک فیصلے کے تحت نام نہاد غیرت کے نام پر ایک مرد اور عورت کو کاروکاری قرار دے کر گولیوں کا نشانہ بنا ڈالا گیا۔ اگرچہ یہ واقعہ عید الاضحی سے قبل کا ہے تاہم اس کی ویڈیو تقریباً ایک ماہ بعد منظر عام پر آئی، پورے ملک میں ایک اضطراب پھیل گیا۔ اس دل خراش واقعے نے زمانہ جاہلیت کی یاد تازہ کر دی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ جدید ترقی یافتہ دور میں بھی فرسودہ رسموں اور بوسیدہ نظام زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔

دوسری طرف حکمرانوں کی بے حسی، لاپروائی اور عوامی مسائل کے حل سے روگردانی کا یہ عالم ہے کہ خیبر پختون خوا، پنجاب اور دارالخلافہ اسلام آباد طوفانی بارشوں کے باعث سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ غریب اور مفلوک الحال لوگ اپنے گھروں سے بے گھر اور سال بھر کی کمائی کا واحد ذریعہ کھڑی اور تیار فصلوں سے محروم ہوگئے ہیں۔

حکومت کی کارکردگی صرف ٹی وی چینلوں اور اخباری بیانات میں نظر آ رہی ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں کہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے عوام کو بے گھر اور بے سہارا کر دیا ہو، سیلابی پانی فصلوں کو بہا کر لے گیا ہو۔ ہر سال بارشوں کا مون سون سیزن آتا ہے، کبھی کم، درمیانی اور کبھی بہت زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ ہر حکومت اپنی اچھی کارکردگی کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے، لیکن آج تک سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے، ناگفتہ بہ صورت حال سے نمٹنے اور عوام کو سیلابی نقصانات سے محفوظ رکھنے کی کوئی جامع منصوبہ بندی اختیار نہیں کی گئی۔

ملک میں ایک نیشنل ڈیزاسٹر اتھارٹی (این ڈی ایم اے) بھی قائم ہے لیکن یہ خواب غفلت سے اس وقت بیدار ہوتی ہے جب پانی سروں کے اوپر آن کھڑا ہوتا ہے۔ میڈیا میں چار دن کا شور و غل ہوتا ہے پھر لمبی خاموشی چھا جاتی ہے۔ محکمہ موسمیات الرٹ جاری کر دیتا ہے لیکن حکمرانوں کی غفلت و لاپروائی کا سارا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ دنیا بھر کے ان ممالک میں جہاں ہمہ وقت بارشیں اور سیلابی صورت حال پیش آتی ہے وہاں پہلے سے حفاظتی اقدامات کر لیے جاتے ہیں۔

چھوٹے بڑے ڈیمز تعمیر کیے جاتے ہیں اور سیلابی پانیوں کو اپنی ضرورت کے مطابق استعمال میں لایا جاتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ سات دہائیوں کی کوتاہیوں کا ازالہ کیا جائے۔ پنجاب، سندھ اور کے پی کے میں ضرورت کے مطابق چھوٹے بڑے ڈیمز تعمیر کیے جائیں تاکہ سیلابی اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جاسکے۔ ورنہ حکمرانوں کو مخاطب کرکے ہر سال یہی کہنا پڑے گا کہ ’’مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا۔‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رہی ہے

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار