سیلاب سے تباہی،گلگت بلتستان حکومت نے 37دیہات کو آفت زدہ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
سیلاب سے تباہی،گلگت بلتستان حکومت نے 37دیہات کو آفت زدہ قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 31 July, 2025 سب نیوز
گلگت (سب نیوز)جی بی حکومت نے سیلابی تباہی سے دوچار آٹھ اضلاع کے 37 دیہات کو آفت زدہ قرار دے دیا۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آفت زدہ قرار دیے جانے والے علاقوں میں گلگت کے 9 ،دیامر 12 ،غذر 5، اسکردو 4، گانچھے 2، شگر 3، نگر اور کھرمنگ ضلعے کے ایک ایک گاوں کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق جن علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے ان میں انسانی جانوں کے نقصانات کے ساتھ گھروں اور فصلوں کے ساتھ انفر ا اسٹرکچر کی تباہی ہوئی ہے، اس بنیاد پر آٹھ اضلاع کے تین درجن مقامات کو حاصل اختیارات کے تحت حکومت نے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔
گلگت بلتستان حکومت نے 20 جولائی سے قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 15 سے 20 ارب روپے بتایا ہے جبکہ اب تک 10 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور ایک درجن افراد لاپتہ ہیں، اور سیلاب میں سیاحوں سمیت مقامی لوگوں کی 20 سے زائد گاڑیاں بھی سیلاب میں بہہ گئی ہیں۔گلگت بلتستان حکومت نے سیلاب سے ہونے والے مالی و جانی نقصانات کے تناظر میں ندی نالوں اور دریا کے کناروں کو ناجائز طور پر قبضہ کر کے مکانات اور عمارتیں بنانے والے افراد کو سیلاب نقصانات کے معاوضے نہ دینے اور مسقبل میں اسکی روک تھام کے لیے قانون سازی کا اعلان کر دیا ہے۔
گلگت بلتستان میں سیلاب نقصانات کے جائزے کے لیے وزیر اعلی گلگت بلتستان کے رابطے پر وزیر اعظم چار اگست کا دودہ کریں گے جس میں وزیراعظم کی طرف سے اہم مالی پیکیج کی امداد کے اعلان کی توقع کی جاری ہے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعدالتی فیصلہ خوش آئند، ملک کیلئے منفی سوچ رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی، عظمی بخاری کا سزائوں پر ردعمل عدالتی فیصلہ خوش آئند، ملک کیلئے منفی سوچ رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی، عظمی بخاری کا سزائوں پر ردعمل پی ٹی آئی کا مینار پاکستان پر جلسہ کی اجازت کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع وفاقی حکومت نے سول سروس رولز 1993میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا سینیٹ کی تجارت اور خزانہ کمیٹیوں کا کوئٹہ میں مشترکہ اجلاس،پاک ایران تجارت میں درپیش رکاوٹوں پر تبادلہ خیال الیکشن کمیشن ، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے اثاثہ جات سے متعلق کیس 5اگست کو سماعت کیلئے مقرر ملک بھر میں تمام یوٹیلیٹی سٹورز مکمل طور پر بند کر دیئے گئے، نوٹیفکیشن سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان حکومت نے کو آفت زدہ قرار نقصانات کے سب نیوز
پڑھیں:
گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی
گلگت:گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹرز کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں متعدد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں معمولی فرق انتخابی نتائج پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 480 ہے، جبکہ کم از کم پانچ حلقوں میں خواتین ووٹرز جیت اور ہار کا فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
دیامر-1 سب سے منفرد حلقہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ اس حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 257 ہے، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا فرق موجود ہے۔
مزید پڑھیںگلگت بلتستان عام انتخابات؛ پنجاب پولیس کے 5ہزار اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے
گلگت بلتستان انتخابات، کیا نواز شریف فعال سیاست میں واپس آ رہے ہیں؟
دوسری جانب گلگت-2 میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان سب سے زیادہ فرق ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں مرد ووٹرز کی تعداد خواتین کے مقابلے میں 3 ہزار 829 زیادہ ہے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 26 ہزار 10 ہے۔
انتخابی ماہرین کے مطابق گلگت-2، ہنزہ، غذر-2، گلگت-3 اور اسکردو-2 ایسے حلقے ہیں جہاں خواتین ووٹرز نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہیں۔ ہنزہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد 25 ہزار 588، غذر-2 میں 24 ہزار 945، گلگت-3 میں 24 ہزار 810 اور اسکردو-2 میں 24 ہزار 346 ہے۔
ادھر انتخابات میں خواتین کی سیاسی شرکت بھی نمایاں ہے اور 8 خواتین امیدوار مختلف حلقوں سے قسمت آزما رہی ہیں، جس سے انتخابی عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی عکاسی ہوتی ہے۔