Jasarat News:
2026-07-24@04:34:00 GMT

لبلبے کا کینسر سب سے زیادہ مہلک قرار‘ ماہرین

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (انٹرنیشنل ویب ڈیسک) طبی ماہرین کی تحقیق نے تمام سرطانوں میں سب سے زیادہ مہلک سرطان کسے قراردیے جانے سے متعلق ذہنوں میں اٹھنے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ لبلبے کا کینسر تمام کینسرمیں مہلک ترین قرار دیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تمام سرطان کی اقسام میں سے مہلک ترین کینسر عام طور پر وہ ہوتا ہے جوبدن میں تیزی سے گردش کر جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں لبلے کا کینسر علامات ظاہر نہیں کرتا اور جس کی وجہ سے علاج محدود یا کم مو¿ثر ہوتا ہے۔
مندرجہ بالا عوامل کے پیش نظر اگر مہلک ترین کینسر کی جب بات نکلتی ہے تو وہ حقیقتاً لبلبے کا کینسر یعنی Pancreatic Cancer مانا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لبلے کا سرطان سب سے زیادہ مہلک ترین سرطان گردانا جاتا ہے کیونکہ اس کی علامات کافی دیر سے ظاہر ہونے کے باعث اس وقت تک کینسر بدن میںکافی سرائیت کر چکا ہوتا ہے۔
اس کینسرسے تحفظ کی شرح 10 فیصد سے بھی کم ہے اور اس میں مبتلا افراد زیادہ سے زیادہ 5 سال تک ہی زندہ رہے سکتے ہیں۔ مزید براں اس میں بہت کم کیسز میں سرجری ممکن ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مہلک ترین کا کینسر سے زیادہ

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش