بدلتے علاقائی وعالمی حالات کے باوجود پاک چین دوستی ناقابل شکست رہی: آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ پاک-چین کی دوستی وقت کی آزمائشوں پر پورا اترنے والے، منفرد اور مضبوط دوست ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے 98ویں یوم تاسیس پر جی ایچ کیو میں تقریب ہوئی. جس میں چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب میں چین کے ملٹری اتاشی میجر جنرل وانگ ژونگ، چینی سفارتخانے کے حکام اور پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پیپلز لبریشن آرمی کو یوم تاسیس پر مبارکباد پیش کی.
دوسری جانب چین کے سفیر نے تقریب کے انعقاد پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افواج کے کردار کو سراہا، اُن کا کہنا تھا چین پاکستان کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔تقریب کا اختتام دونوں ممالک کی دوستی کے عزم کی تجدید کے ساتھ ہوا، جو ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔