ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی یا ممکنہ جنگ کی صورت میں پاکستان میں ایرانی مصنوعات کی درآمد پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو ایرانی اشیا جیسا کہ پیٹرول، چاکلیٹس، کوکنگ آئل، بسکٹس، خشک میوہ جات، الیکٹرانکس وغیرہ کا کاروبار کرتے ہیں، وہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

ایرانی مصنوعات کا کاروبار کرنے والے پاکستانی کتنے متاثر ہو سکتے ہیں؟ اس حوالے سے جاننے کے لیے ’وی نیوز‘ نے چند ایسے افراد سے بات کی جو راولپنڈی باجوڑ پلازہ میں ایرانی مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں پاکستان اور بھارت کی جنگ رکوائی، ایران و اسرائیل کے درمیان بھی جلد معاہدہ ہوگا : ڈونلڈ ٹرمپ

’کشیدگی جاری رہی تو ہمارا کاروبار متاثر ہوگا‘

راولپنڈی میں ایرانی خشک میوہ جات کے ہول سیلر فضل اصغر نے وی نیوز کو بتایا کہ ایرانی بادام، پستہ اور کھجوریں ہماری دکان کی پہچان ہیں، لیکن اسرائیل ایران کشیدگی شروع ہونے کے بعد اب ایران سے ایرانی میوہ جات درآمد کرنا مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ پہلے سے جو مال منگوایا ہوا ہے، وہ بھی سرحد پر ہی رک جائے گا، اب یہ کشیدگی کب تک جاری رہے گی اس حوالے سے ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ’ہم جیسے کاروباری افراد کے لیے نہایت مشکل ہو جائے گی، کیونکہ پاکستان میں ایرانی مصنوعات کے خریدار بڑی تعداد میں ہیں، اور کشیدگی بڑھنے کی صورت میں ہمارا کاروبار متاثر ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو انہیں مجبوراً دوسرے ممالک سے مہنگا مال منگوانا پڑے گا یا پھر کشیدگی ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہاکہ ایرانی خشک میوہ جات پاکستان میں خاصے مقبول ہیں اور ان کی عدم دستیابی سے مقامی مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، مگر شکر ہے کہ یہ کشیدگی سیزن میں شروع نہیں ہوئی، ورنہ ہمارا روزگار بہت بڑی طرح متاثر ہوتا۔

’حالات خراب رہے تو کاروبار کو بہت بڑا دھچکا لگے گا‘

ایرانی الیکٹرانکس کے ڈیلر ندیم جعفری نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا زیادہ تر سامان ایرانی بارڈر سے آتا ہے، اور اب جو کشیدگی ہے اس کی وجہ سے نہ صرف رسد متاثر ہوئی ہے بلکہ گاہک بھی پریشان ہوں گے، کیونکہ چھوٹے تاجر ہم سے سامان لے کر جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ ایرانی مال کی طلب تو ہے، لیکن اگر حالات خراب رہے تو کاروبار کو بہت بڑا دھچکا لگے گا۔ پاکستانی مارکیٹ میں ایرانی الیکٹرانکس کا ایک مخصوص حصہ ہے جو براہِ راست درآمدات پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہاکہ پیٹرول، خشک میوہ جات اور الیکٹرانکس کے علاوہ ایرانی کوکنگ آئل، چاکلیٹس، بسکٹس اور گھریلو استعمال کی دیگر ایرانی اشیا بھی پاکستان کی مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں، اور مارکیٹ میں ان مصنوعات کی بڑی ڈیمانڈ بھی ہے۔ اس لیے ایران سے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر آنے والی ان مصنوعات کی سپلائی چین بھی موجودہ کشیدگی سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔

’ایرانی اشیا پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں سستی ہیں‘

دکاندار حبیب اللہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنا مال کوئٹہ سے منگواتے ہیں، اور اس کشیدگی کی وجہ سے پاکستانی چھوٹے تاجر بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال یوں ہی برقرار رہی تو یہ اشیا مارکیٹ سے غائب ہو جائیں گی یا پھر ان کی قیمتیں بڑھ جائیں گی، جس سے گاہک متاثر ہوگا، اور گاہک ایرانی مصنوعات کے بجائے پاکستانی مصنوعات کو ترجیح دے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی مصنوعات پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں سستی ہیں، جو چیز پاکستان میں 200 روپے کی ہے، ایرانی وہی چیز گاہک کو 100 سے 150 روپے میں بآسانی مل جاتی ہے۔ اس لیے عام صارفین جو ایرانی مصنوعات کو ان کی قیمت اور معیار کی وجہ سے ترجیح دیتے ہیں، انہیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں ’نیتن یاہو خطے کو جنگ کی آگ میں جھونکنے پر تُلا ہوا ہے‘، ترک صدر کا ایران سے اظہار یکجہتی

انہوں نے کہاکہ اس کشیدگی کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان میں ایرانی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ان کی دستیابی بھی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری حضرات کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا جو ان مصنوعات پر انحصار کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews ایران اسرائیل کشیدگی ایرانی مصنوعات تاجر خشک میوہ جات کاروبار متاثر کشیدگی جاری وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران اسرائیل کشیدگی ایرانی مصنوعات تاجر خشک میوہ جات کاروبار متاثر کشیدگی جاری وی نیوز پاکستان میں ایرانی مصنوعات متاثر ہو سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ مارکیٹ میں مصنوعات کے مصنوعات کی کہ ایرانی پڑے گا

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار