اسرائیل کےخلاف کھڑے ہونا تمام مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے، ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
تہران(نیوز ڈیسک)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اسرائیل کومزیدتکلیف دہ اورتباہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی عراقی وزیراعظم شیاع السُودانی سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ ایران نےجنگ شروع نہیں کی،لیکن طاقتور جواب دیا۔
عراقی وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کےخلاف کھڑے ہونا تمام مسلم ممالک کی ذمہ داری ہے، اسرائیل کونہ روکا تو یہ خطےکے دیگر ممالک پر بھی جارحیت کرےگا۔
دریں اثنا عراقی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، شیاع السُودانی نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعے میں کشیدگی کو روکنے کے لیے عراق کے عزم پر زور دیا۔
شیاع السُودانی کہا کہ عراق، ایران کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل کی کارروائیوں کو مسترد کرنے پر عراق کے مؤقف کا شکریہ ادا کیا، جن میں خطے کے مختلف ممالک پر بار بار حملے شامل ہیں۔
ایرانی صدر نے اسرائیلی حملوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کے خلاف متحدہ ردعمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ اقدامات دیگر اسلامی ممالک کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے تہران اور ایران کے دیگر مقامات پر درجنوں فوجی ہیڈکوارٹرز اور جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے، جن میں 200 سے زائد جنگی طیارے استعمال کیے گئے، اس حملے کے نتیجے میں ایران کے متعدد اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنسدان شہید ہوگئے۔
جوابی کارروائی کے طور پر، ایران نے اتوار کے روز اپنی سرزمین پر جاری حملوں کے ردعمل میں سیکڑوں میزائل فائر کیے، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ تل ابیب کے حکام کو اپنی جارحیت کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
مزیدپڑھیں:ایران نےنیتن یاہو کے گھر پر حملہ کردیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایرانی صدر کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔