ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ترک صدر نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں اسرائیل کی ایران پر تازہ بمباری، فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا

ایرانی خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق صدر پژشکیان نے اس موقع پر کہاکہ اسلامی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتیں مضبوط بنانے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیل نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ نہ انسانی حقوق کا احترام کرتا ہے، نہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری۔ عام شہریوں، سائنسدانوں، سرکاری اہلکاروں اور فوجی افسران کو نشانہ بنا کر اسرائیل نے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

ایرانی صدر نے ترک ہم منصب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ مشکل وقت میں ترکیہ کا ساتھ دینا ایرانی قوم کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی حملوں کو نہایت خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم نیتن یاہو خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں ایران نے اسرائیل پر پھر بیلسٹک میزائل داغ دیے، تل ابیب میں دھماکوں کی گونج

انہوں نے ایران کے جوہری معاملے کے سفارتی حل کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اسرائیل ایران جنگ ایرانی صدر ترک صدر رجب طیب اردوان مسعود پزشکیان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل ایران جنگ ایرانی صدر رجب طیب اردوان مسعود پزشکیان وی نیوز

پڑھیں:

سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔

خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان