ایران کا آئی اے ای اے سے تعاون محدود کا اعلان، جوہری تنصیبات حملوں پرخاموشی ناقابل قبول، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ایران کا آئی اے ای اے سے تعاون محدود کا اعلان، جوہری تنصیبات حملوں پرخاموشی ناقابل قبول، دفتر خارجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 15 June, 2025 سب نیوز
تہران(آئی پی ایس ) ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے عالمی جوہری ادارے (آئی اے ای اے)سے اپنا تعاون محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں پر خاموش رہا، جو شدید تشویش کا باعث ہے۔نائب وزیر خارجہ کے مطابق ایران اپنے جوہری مواد اور آلات کے تحفظ کیلئے خصوصی اقدامات کرے گا تاہم ان اقدامات کے بارے میں آئی اے ای اے کو پیشگی اطلاع نہیں دی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری اورجوہری سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا اور اب اعتماد یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسندھ میں شاپنگ بیگز پر پابندی ، خلاف ورزی پر گرفتاریاں اور جرمانے ہونگے سندھ میں شاپنگ بیگز پر پابندی ، خلاف ورزی پر گرفتاریاں اور جرمانے ہونگے برطانیہ کا اسرائیل کی مدد کیلئے مشرقِ وسطی میں جنگی بیڑے تعینات کرنے کا فیصلہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے میں آپریشن، خوارجی دہشت گرد مولوی نذیر کمانڈر ہلاک راولپنڈی میں ٹریفک وارڈن سے بدتمیزی ، پیکا ایکٹ کے تحت 10 سے 15 وکلا کے خلاف مقدمہ درج ایران کے اسرائیل پر پے در پے حملے، امریکا نے یوکرین سے میزائل دفاعی نظام مشرق وسطی منتقل کردیے تعصب کی عینک اتار کر پنجاب اور خیبرپختونخوا کا موازنہ کریں، بیرسٹرسیفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئی اے ای اے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔