اسرائیلی جارحیت میں مزید 90 فلسطینی شہید، غزہ میں شہادتیں 55 ہزار سے متجاوز
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ بیت المقدس:غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 55,297 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 128,426 افراد زخمی ہوئے ہیں، گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 90 لاشیں اسپتالوں میں لائی گئیں اور 605 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اب بھی کئی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں اور درجنوں زخمی سڑکوں پر مدد کے منتظر ہیں، مگر اسرائیلی حملوں کے سبب امدادی ٹیمیں ان تک نہیں پہنچ پا رہیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ترجمان کاکہنا ہے کہ غزہ میں صورتحال “قحط” کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، ٹیلی کمیونیکیشن کا مکمل بلیک آؤٹ زندگی بچانے والی امدادی کارروائیوں کو مفلوج کر رہا ہے، اقوامِ متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی امداد کی ترسیل کے لیے فوری اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کی جائے۔
خیال رہےکہ اسرائیلی فوج نے 18 مارچ کو جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ترک کرتے ہوئے دوبارہ شدید حملے شروع کر دیے، ان حملوں نے غزہ کے مکینوں کی زندگی مزید بدترین بحران میں دھکیل دی ہے۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (ICC) نے گزشتہ نومبر میں اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیرِ دفاع یؤآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
مزید یہ کہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں نسل کشی (Genocide) کے الزام میں مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے، جس میں متعدد عالمی ماہرین اور تنظیمیں اسرائیلی اقدامات کو انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دے چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔