طلال چوہدری کا شیعہ علماء کونسل اور ایم ڈبلیو ایم سے ملاقات کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
وزیر مملکت برائےداخلہ طلال چوہدری نے شیعہ علماء کونسل اور ایم ڈبلیو ایم سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور شیعہ علماء کے درمیان ملاقات کل اسلام آباد میں ہوگی۔
ایم ڈبلیو ایم اور شیعہ علماء کونسل نے اربعین پر زائرین کے زمینی سفر میں پابندی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ مجلس وحدت المسلمین کے رہنماؤں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اچانک زمینی راستوں کو بند کرنا اور زائرین پر پابندی لگانا کسی صورت قبول نہیں، یہ عمل حکومتی انتظامی نااہلی اور عالمی اربین کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہیں پہلے مرحلے میں سندھ کے مختلف اضلاع میں احتجاج کیا جائے گا، بندش کو ختم نہیں کیا گیا تو دھرنوں کا اعلان بھی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شیعہ علماء
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔