زائرین کیلئے چہلم امام حسین پر زمینی رستوں پر پابندی کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا ملک گیر احتجاج کا اعلا ن
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
زائرین کیلئے چہلم امام حسین پر زمینی رستوں پر پابندی کے خلاف ایم ڈبلیو ایم کا ملک گیر احتجاج کا اعلا ن WhatsAppFacebookTwitter 0 29 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے زائرین امام حسین پر زمینی راستوں کی بندش کے غیر قانونی حکومتی فیصلے کے خلاف دیگر مرکزی رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک مسلکی پاکستان نہیں، ریاست کو اپنے شہریوں کو سہولت دینا چاہیے، ہماری حکومتیں اہل تشیع کے بنیادی حقوق کیلے معاونت نہیں کرتیں، پاکستان کے زائرین کو روکنے کیلئے کسی سٹیک ہولڈر سے مشاورت نہیں کی گئی، حکومت کے فیصلے کے مطابق زائرین نے ٹکٹ، ہوٹلز اور ویزوں کے مد میں50 ارب روپے انویسٹمنٹ کئے ہیں، زائرین کو سہولت دینے کیلئے کوئی بات نہیں کر رہے ہیں، حکومت کو یہ پرواہ ہی نہیں کہ کروڑوں لوگ آپ سے نفرت کرہنگے، ہماری مزہبی آزادی کو پامال کیا گیا ہے، آئین پاکستان میں تمام پاکستانیوں کے حقوق واضح طور پر درج ہیں، حکومت کی ذمہ داری کے وہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرے، نواسہ رسول کے چہلم کی مناسبت سے صدیوں سے لوگ زیارت پر جاتے ہیں، دہائیوں سے لوگ پیدل، سمندری ہوائی راستوں سے جاتے ہیں، حکومت اہل تشیع کے حقوق کے تحفظ کے بجائے رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کچھ عرصہ قبل ایران گئے جہاں ایران اور عراق کے وزرا بیٹھے اور زائرین کی خدمت کیلئے اقدامات کے حوالے سے بات چیت کی گئی، ملاقاتوں کے کچھ عرصے بعد یہ پتا چلا کے زائرین زمینی راستوں سے زیارات پر نہیں جاسکتے، کیا آپ کو رات ہی رات پتا چلا کے زائرین کا زمینی راستے سے جانا سیکیورٹی رسک ہے؟ اس سے پہلے حکومت کی نااہلی کی وجہ سے 67 ہزار لوگ حج سے محروم رہ گئے اور اب حکومت زائرین کو زیارات پر جانے سے روک رہی ہے، حکومت سو رہی ہے، حکومت کی غفلت کی وجہ سے پہلے حجاج اور اب زائرین زیارات پر جانے سے محروم ہو رہے ہیں، پاکستان کا آئین مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے یہ لوگ زمینی راستہ روک کر آئینی، مذہبی حق سے محروم کر رہے ہیں، حکومت اگر زمینی راستہ روک رہی ہے تو اسکا متبادل راستہ دینا چاہیے تھا، اگر زمینی راستے پہ سکیورٹی رسک تھا تو فضائی یا سمندری راستہ کو استعمال کیا جاسکتا تھا، مگر حکومت نے زائرین کو زیارات پر جانے سے ہی روک دیا، حکومت کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے، اگر حکومت راستہ ہی محفوظ نہیں بنا سکتی تو اسکا مطلب ہے کہ حکومت فیل ہو چکی ہے، یہ کیسی حکومت ہے کہ جو عوام کے راستے تک محفوظ نہیں کر سکتی، زیارات پر جانا ہمارا بنیادی حق ہے ہم اس سے عوام کو محروم نہیں ہونے دیں گے، یہ کوئی سیاسی احتجاج نہیں بلکے امام حسین علیہ السلام کے عشق میں ہوگا، لوگ احتجاج کریں گے اور اسکی ذمہ دار حکومت ہوگی، صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کہاں ہیں؟ عوام سڑکوں پر بیٹھی ہوئی ہے، ہم ہرگز غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقدام کو قبول نہیں کریں، پورے پاکستان میں پرامن احتجاج ہوں گے، لوگ اپنے حقوق کیلئے نکلیں گے، پورے پاکستان کے اہل تشیع برادری ایک پلیٹ فارم پر اکھٹی ہوکر احتجاج میں شریک ہیں، زائرین کی گمشدگی کے حوالے سے بیان پر وزارت مذہبی امور کو معافی مانگنی چاہیے، یہ زیارات کیخلاف پروپیگنڈہ ہے، اسرائیل اور امریکہ نہیں چاہتے کہ لوگ زیارات پر جاہیں
انہوں نے کہا کہ راستوں کو محفوظ نہیں کرسکتے تو آپ لوگ کس لئے ہیں، ذمہ دار حکومتی لوگ کہتے ہیں کہ ہماری بات نہیں سنتے، جی بی سے لیکر پورے پاکستان سے احتجاج کرینگے احتجاج ایک دن کیلئے نہیں ہوگا جاری رہینگے۔ اس حوالے سے کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہو جائے تو اس کا ذمہ دار حکومت ہوگی۔ جتنے بھی ممکنہ راستے ہونگے ہم اپنے حق کیلئے استعمال کرینگے، پاکستان تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں، حکومت کو اس کا حل نکلنا ہوگا، امام حسین کے اربعین سے یہ لوگ خوفزادہ ہیں، شیعہ علما کونسل اور ہم ایک ہیں دونوں مل کر احتجاج کرینگے، حکومت اگر سہولت دیے تو ذائرین پاکستان سے سمندری راستے کے ذریعے بھی جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چہلم امام حسین ع پر جانا کوئی سیر سپاٹا نہیں ہماری مذہبی عبادت اور عقیدت سے منسلک ہے، ریاست مذہبی رواداری کے لئے سہولیات فراہم کرتی ہے، وزیر داخلہ رات کو سوئے صبح اٹھے تو پتہ چلا سکیورٹی مسائل ہیں، یہ کس کے اشاروں پر زائرین سید شہدا امام حسین ع کا رستہ روکا گیا ہے، بائے ائر ٹکٹ راتوں رات مہنگے کر دئے گئے ہیں، زائرین کو سہولت دینے کیلئے کوئی بات نہیں کر رہے ہیں، وزیر داخلہ ٹویٹ کر کے غائب ہو چکے ہیں، رستے محفوظ نہیں کر سکتے تو حکومت سے اتر جائیں، مذہبی آزادی پر قدغن لگانا آئین کے آرٹیکل 20 کی خلاف ورزی ہے، جی بی سے لیکر کراچی تک پورے پاکستان میں دھرنے اور پر امن احتجاج کرینگے، احتجاج ایک دن کیلئے نہیں ہوگا جاری رہینگے۔ اس حوالے سے کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ ہو جائے تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ جتنے بھی ممکنہ آئینی راستے ہونگے ہم اپنے حق کیلئے استعمال کرینگے، پاکستان تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے، حکومت کو اس کا حل نکالنا ہوگا، یہ کسی جماعت یا پارٹی کا مسئلہ نہیں سات کروڑ محبان اہلبیت کی مذہبی آزادی کا مسئلہ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، ڈپلومیٹک انکلیو کی شاہراہوں پر خوبصورت لینڈ سکیپنگ اور ماحول دوست شجرکاری کی ہدایت چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، ڈپلومیٹک انکلیو کی شاہراہوں پر خوبصورت لینڈ سکیپنگ اور ماحول دوست شجرکاری کی ہدایت ایتھوپیا کے سفیر کی چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے ملاقات،شجرکاری مہم سمیت دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال ذوالفقار بھٹو جونیئر کا بہن فاطمہ بھٹو کے ہمراہ سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان نومئی مقدمات میں انصاف کا خون ہو رہا ہے،اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا چیف جسٹس پاکستان کو خط امریکا کے ساتھ تعلقات استوار کر رہے ہیں، وزیرِ اعظم شہباز شریف چینی بحران، پبلک اکاونٹس کمیٹی کے ایف بی آر اور وزارت صنعت سے سخت سوالات، شوگر ملز مالکان کے نام طلبCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب