اجلاس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم رہنما نے کہا کہ یہ فیصلہ دشمنوں کے اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ امتیاز روا رکھا جا رہا ہے اور بلوچستان جیسے اہم صوبے میں ریاستی رٹ قائم نہیں، حکومت زائرین کو تحفظ فراہم کرے اور زمینی سفر کرنے والوں پر سے پابندی کو فوراً ہٹایا جائے، ورنہ ملک گیر احتجاج کی کال دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کا اہم اجلاس مولانا صادق جعفری کی سربراہی میں وحدت سیکرٹریٹ سولجربازار میں منعقد کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا صادق جعفری نے کہا کہ بلوچستان سے زائرینِ امام حسینؑ پر زمینی راستے سے کربلا جانے پر پابندی ایک ناقابلِ قبول اقدام ہے، یہ پابندی مذہبی آزادی، شہری مساوات، اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، ریاست اگر سیکیورٹی دینے سے قاصر ہے تو یہ اس کی ناکامی کا اعتراف ہے، یہ فیصلہ دشمنوں کے اس بیانیے کو تقویت دیتا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ امتیاز روا رکھا جا رہا ہے اور بلوچستان جیسے اہم صوبے میں ریاستی رٹ قائم نہیں، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس پابندی کو فی الفور واپس لیا جائے اور زائرین کو محفوظ، باعزت اور آسان سفری سہولیات فراہم کی جائیں، اربعین حسینی کوئی سیاسی مارچ نہیں، بلکہ عشقِ حسینؑ کا کارواں ہے، جو کسی رکاوٹ کو نہیں مانتا۔ اس موقع پر علامہ مبشر حسن، مولانا حیات عباس و دیگر ذمہ داران موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ناقص داخلی و خارجی پالیسیاں دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بن رہی ہیں، حکومت کی جانب سے زائرین کو سہولیات، آسانیان پیدا کرنے کے دعوے کئے جاتے ہیں تو دوسری جانب زیارت پر جانے والوں پر ہی پابندی لگا دی گئی ہے، اس دوغلی پالیسیوں کی وجہ سے عوام کا ان حکمرانوں سے اعتماد اٹھ چکا ہے، پاکستان سے ہر سال لاکھوں زائرین اربعین امام حسین علیہ السلام زیارت کیلئے عراق جاتے ہیں اور ان کو ریاست کی جانب سے کوئی سفری سہولیات فراہم نہیں کی جاتی سوائے ویزہ فراہم کرنے کے، ان کی سفری آسانیوں کیلئے مکتب جعفریہ کے مختلف ادارے ملک کے مختلف شہروں میں اور بارڈرز پر عارضی انتظامات کئے جاتے ہیں جس میں زائرین کے کھانے پینے، عارضی آرام گاہوں اور طبی سہولیات دی جاتی ہیں، ایک ایسے موقع پر جبکہ اربعین زیارت پر جانے والے عزاداروں نے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور فی زائر لاکھوں روپے خرچ کئے جاچکے ہیں، ایسے موقع پر پابندی کسی صورت بر داشت نہیں کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی