وزیر اعظم شہباز شریف کی امریکی صدر سے 25 ستمبر کو ملاقات کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم شہباز شریف اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رواں ماہ 25 ستمبر کو ملاقات کا قوی امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اس ملاقات کی توقع کی جا رہی ہے، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے لیے کی جانے والی کوششیں کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
اس ممکنہ ملاقات کا پس منظر اسرائیلی حملے اور دوحہ میں مسلم ممالک کی کانفرنس ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ دوحہ اور ریاض کے بعد 25 ستمبر کو یہ ملاقات طے کیے جانے کا امکان ہے، جس کے ایجنڈے، وقت اور مقام کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
اگرچہ 23 ستمبر کو صدر ٹرمپ جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور عالمی رہنماؤں کے اعزاز میں روایتی استقبالیہ دیں گے، تاہم باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ تفصیلی ملاقات 25 ستمبر کو واشنگٹن میں متوقع ہے۔
یہ ملاقات قطر اور سعودی عرب کی مشاورت، حمایت اور تائید سے ہوگی۔ ملاقات کے ایجنڈے میں قطر پر اسرائیلی حملوں کے اثرات، پاکستان میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں اور پاک-بھارت تعلقات جیسے اہم امور شامل ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ستمبر کو
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک