راؤ دلشاد:نئے مالی سال میں پنجاب حکومت کی جانب سے "چیف منسٹر آسان کاروبار فنانس سکیم" کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سکیم کے تحت کاروباری افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لیے 89 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے.

 منصوبے میں اہم ترامیم بھی زیر غور ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سے مستفید ہو سکیں۔ قرض کی دیگرسکیموں سےمستفیدافرادبھی اس پراجیکٹ سےقرض لےسکیں گے.

قرض دینےکاحتمی فیصلہ پنجاب بینک درخواست دہندہ کی مالی حیثیت دیکھ کرکریگا.صوبےمیں چیف منسٹر پنجاب آسان کاروبار فنانس پراجیکٹ شروع کیا گیا.چیف منسٹر پنجاب آسان کاروبار فنانس پراجیکٹ کےتحت کاروباری قرض دیئےجارہے.رواں مالی سال میں منصوبےکیلئے9ارب50کروڑروپےمختص کیےگئے.

ایران اور اسرائیل کو ایک معاہدہ کرنا چاہیے اور وہ کرینگے؛ ڈونلڈ ٹرمپ

پنجاب حکومت کیجانب سےآسان شرائط کےتحت کاروباری قرض دیاجارہاہے.چیف منسٹرپنجاب آسان کاروبار فنانس کےتحت زیادہ سےزیادہ 3کروڑتک کاقرض دیاجا رہا ہے۔وزیراعلیٰ کو11جنوری کومنصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی سمری ارسال کر دی۔وزیراعلیٰ پنجاب نے سی ایم پنجاب آسان کاروبار فنانس کی منظوری کی درخواست دے دی ۔وزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبار کارڈ پراجیکٹس کی منظوری کی بھی درخواست کی گئی۔پی آئی ٹی بی کی خدمات حاصل کرنے کی درخواست کی گئی۔

ایران کا اسرائیل پر ایک اور حملہ ، 50 بیلسٹک میزائل داغ دیئے

نادراکےذریعےدرخواست دہندگان کےکوائف کی تصدیق کی اجازت کی درخواست کی گئی۔ایف بی آر اور این ٹی این کی تصدیق کی اجازت کی درخواست بھی کی گئی۔وزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبار فنانس منصوبے کی لاگت مستقبل میں 100ارب کی جائیگی۔31جنوری کو کابینہ کیلئے سمری ارسال کی گئی،14 جنوری کو صوبائی کابینہ نے منظوری دیدی۔16جنوری کومریم نوازنےوزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبارکارڈمنصوبےکاافتتاح کیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازنےوزیراعلیٰ پنجاب آسان کاروبارفنانس منصوبےکاافتتاح کیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ترکیہ کے وزیر خارجہ کا ٹیلفونک رابطہ

5سال میں قرض کی واپسی ہوگی، نئےکاروبارکو6ماہ اورپرانےکاروبارکو 3ماہ کی توسیع ملےگی۔قرض کی درخواست کی فیس 5 ہزار اور 10 ہزار روپے رکھی گئی۔پنجاب حکومت30 جون تک 9 ارب 10 کروڑ روپے تقسیم کرے گی۔قرض کی واپسی کی قسط ہر ماہ کی یکم تاریخ ہوگی۔تاخیر پر ایک ہزار روپے یومیہ جرمانہ ہوگا۔حکومت چھوٹےکاروبارکیلئے2ارب اوربڑےکاروبارکیلئے7ارب17کروڑ70لاکھ خرچ کریگی۔سمال اینڈ میڈیم ٹرم آنٹرپرینیورز کو پنجاب بینک کے ذریعے قرض دیا جا رہا ہے۔

اتنی بار شادی کا ذکر کرچکی ہوں اب شادی نہیں ہورہی؛ اداکارہ لائبہ خان

منصوبےکےتحت انڈسٹریل اسٹیٹس ، سپیشل اکنامک زونزمیں کاروباری سرگرمیاں بڑھائی جائیں گی۔ٹریڈایسوسی ایشنز، ٹریڈباڈیزاورپرائیویٹ سیکٹرکی شراکت سےکاروبارکوفروغ دینےکےاقدامات کیےجائینگے۔پنجاب بھر کے نوجوانوں کو تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور