پنجاب میں سرکاری ملازمین کو کارکردگی کی بنیاد پر ایڈیشنل پرفارمنس دینے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ سرکاری ملازمین کو کارکردگی کی بنیاد پر ایڈیشنل پرفارمنس بونس دینے کا جائزہ لیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 27 واں اجلاس ہوا۔ اجلاس کو سینئر منسٹر اور وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ مریم اورنگزیب اور فنا نس منسٹر نے تفصیلی بریفننگ دی۔
اجلاس سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو کامیابی ملی اللہ تعالیٰ نے عطا کی، نیت نیک ہے کام کرتے رہیں گے۔ اقتدار اللہ تعالیٰ کی ا مانت ہے اور مخلوق کی خدمت ہمارا مشن ہے۔ پائی پائی عوام کی امانت ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2025- 26 کا بجٹ ملکی تاریخ کا بے مثال بجٹ ثابت ہوگا۔ عوامی خدمت کا تاریخی پیکج پیش کر رہے ہیں۔ ہر ڈیپارٹمنٹ سے متعلق اعداد وشمار زبانی یاد ہیں۔ فنانشل ڈسپلن کی وجہ سے گورننس میں بہتری آرہی ہے۔ پنجاب میں مقامی قرضوں کی شرح میں 94 فیصد ریکارڈ کمی آئی ہے۔ صوبائی اسمبلی میں پوری پراگریس پیش کریں گے۔ کتنے فنڈز، کہاں خرچ ہوئے سب بتائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے مریم نواز کا بڑا اعلان، پنجاب کے 59 شہروں میں ترقیاتی منصوبے شروع
انہوں نے کہا کہ یہ زیرو ٹیکس بجٹ ہے اور سب سے بڑا ڈویلپمنٹ بجٹ بھی دے رہے ہیں۔ الحمدللہ، سب سے بڑا ترقیاتی فنڈ ہونے کے باوجود، کوئی مالیاتی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ ای ٹینڈرنگ اور گڈ گورننس کی وجہ سے کوئی اسکینڈل نہیں بنا۔ پچھلا ترقیاتی بجٹ بھی ایک ریکارڈ تھا، اپنے سارے ریکارڈ خود توڑیں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں 100 نئے اختراعی پروگرام اور پراجیکٹس شروع کیے گئے ہیں جو بذات خود ایک ریکارڈ ہے۔ 700 سڑکیں بن رہی ہیں، ان کی 12ہزار کلو میٹر تعمیر و توسیع ایک بہت بڑا ریکارڈ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری توجہ عوام پر مرکوز ہے، ہیلتھ اور ایجوکیشن میں آج تک اتنا بجٹ کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ دو، چار بڑے پراجیکٹ بنا دیں تو لگتا ہے بڑا کام ہوا ہے لیکن ہم 94 نئے پروگرام لے کر آئے ہیں۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ میسر وسائل سے عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ کامیابی نیت اور محنت سے ملتی ہیں، اس سال گزشتہ برس سے بھی زیادہ محنت کریں گے۔ عید پر صوبہ بھر میں صفائی کا ریکارڈ قائم کیا۔ ستھرا پنجاب نے ریکارڈ قائم کیے، افسران خود سڑکوں پر نکل آئے، شوق سے کام کیا۔ پنجاب میں ورک ایتھکس تبدیل ہوچکے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کو کارکردگی کی بنیاد پر ایڈیشنل پرفارمنس بونس دینے کا جائزہ لیں گے۔ فری میڈیسن ہر جگہ ملیں گی، اس سال اسکولوں میں ضروری سہولتوں کی فراہمی کا ہدف پورا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعلیٰ مریم نواز کا آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کے طلبا کو بھی اسکالرشپس اور لیپ ٹاپس دینے کا اعلان
انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت اور بھرپور تبدیلی کے لیے وقت بہت کم ہے۔ عوام کی خدمت ہماری ذمہ داری ہے۔ 40 ہزار سے زائد گھر 40 سال میں بھی نہیں بن سکے۔ مزدور کو کم از کم اجرت 40 ہزار روپے دی جائے، اجرتوں کا سسٹم ڈیجیٹلائز ہونا چاہیے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ ٹیکس بڑھانا آسان ہے لیکن بڑھانے کی بجائے ٹیکس نیٹ پر توجہ دیں گے۔ پی آر اے کی ریونیو کولیکشن سے خوش نہیں، بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کو بھی پورا کیا اور 740ارب روپے سرپلس بجٹ بھی دیا۔ پنجاب میں ایمرجنسی نافذ کرکے ڈیلیور کیا۔
انہوں نے کہا کہ سینئر منسٹر نے رات بھر جاگ کر کام کیا شاباش دیتی ہوں۔ چیف سیکرٹری اور ان کی پوری ٹیم کو بھی مبارکباد دیتی ہوں، نواز شریف بھی ان کی تعریف کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مریم نواز شریف وزیراعلٰی پنجاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز شریف مریم نواز شریف نے انہوں نے کہا کہ کی خدمت عوام کی
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔