بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں ہوش رُبا اضافہ، مودی راج میں انصاف ناپید
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے جب کہ مودی راج میں انصاف ناپید ہے۔
ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی کٹھ پتلی حکومت کے دور میں ریپ کلچر بھارت کی نئی پہچان بن چکا ہے اور مودی سرکار صرف جھوٹے نعروں تک محدود ہو گئی ہے۔ "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ" صرف ایک فریب بن کر رہ گیا ہے جب کہ زمینی حقائق مودی کے دعووں سے کوسوں دور ہیں۔
مودی راج میں خواتین کے خلاف جرائم عروج پر ہیں۔ بھارت عورتوں کے لیے جہنم بن چکا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق بھارتی ریاست اڈیشہ کے جگت سنگھ پور میں 18 سالہ لڑکی کو اغوا کرکے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ متاثرہ لڑکی اپنی سہیلی کے ساتھ سالگرہ کی تقریب سے واپس آ رہی تھی کہ راستے میں 2 افراد نے اسے اغوا کر لیا۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ لڑکی کے والد نے بتایا کہ ملزمان نے لڑکی کو کھیت میں لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جب کہ اس کی سہیلی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ لڑکی کی حالت تشویشناک ہے اور وہ ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال میں داخل ہے۔
پولیس نے متاثرہ لڑکی کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے ۔ بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے مسلسل واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس کے خلاف اپوزیشن سراپا احتجاج ہے۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت گزشتہ ایک سال میں قانون و انصاف کی بحالی میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ بی جے ڈی کے رہنما پریابرات موہاپاترا نے کہا کہ ہم تمام مجرموں کی گرفتاری تک ایس پی آفس کا گھیراؤ جاری رکھیں گے۔
مودی کے دور میں بھارت خواتین کے لیے ایک خونیں قید خانہ بن چکا ہے۔ بھارت میں بیٹیوں کا خون سستا ہو چکا ہے اور انصاف صرف ایک خواب بن کررہ گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں خواتین کے خلاف جرائم بھارت میں چکا ہے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔