ضلعی سرکاری ہسپتالوں میں اینجو پلاسٹی کا آغاز، ہر مریض کو دہلیز پر سہولت دینگے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کے ہر ضلع میں امراض دل کے علاج کا وعدہ پورا کردیا۔ پنجاب میں ضلع کی سطح پرسرکاری ہسپتالوں میں اینجو پلاسٹی کا آغاز ہوگیا۔ امراض قلب میں مبتلا مریضوں کے لئے 16 اضلاع میں کیتھ لیب قائم ہوں گی۔ پہلے مرحلے میں اٹک، جہلم، میانوالی، قصور، جھنگ، وہاڑی، بہاولنگر اور لیہ میں کیتھ لیب قائم ہوں گی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، شیخوپورہ، خانیوال، راجن پور، بھکر، چکوال، منڈی بہاؤالدین اور حافظ آباد میں بھی کیتھ لیب بنائی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر کیتھ لیب کے لئے ڈاکٹرز اور سٹاف کی تعیناتی کا آغاز ہوگا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر بہترین انٹرنیشنل کارڈیالوجسٹ کی خدمات طلب کرلی گئیں۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں ایف سی پی ایس، ایم ڈی اور امریکن بورڈ آف کارڈیالوجی سے ڈپلومہ کرنے والے ڈاکٹرز کو تعینات کیا جائے گا۔ کیتھ لیب میں کارڈیالوجی کے تجربہ کار میڈیکل افسر اور نرس بھی رکھی جائیں گی۔ کیتھ لیب میں میڈیکل ایمجنگ ٹیکنالوجسٹ اور کیتھ لیب ٹیکنالوجسٹ بھی موجود ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کے لئے بہترین کارڈیالوجسٹ کی خدمات حاصل کرنے کا حکم دیا۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز پنجاب نے کارڈیالوجسٹ، میڈیکل آفیسرز، نرسز اور ٹیکنالوجسٹ پراسیس کا آغاز کر دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اضلاع میں کیتھ لیب بننے سے اینجو پلاسٹی کے لئے مریضوں کو بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ ہر ضلع میں مرحلہ وار کیتھ لیب بنائیں گے، مریضوں کو فوری ریلیف ممکن ہوگا۔ ڈسٹرکٹ کی کیتھ لیب میں ناصرف بہترین ڈاکٹر بلکہ عملے کی موجودگی کو یقینی بنائیں گے۔ ہر مریض کو علاج کی بہترین سہولیتیں گھر کی دہلیز پر میسر ہوں گی۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب کی قیادت میں خصوصی بچوں کی تعلیم میں تاریخی پیش رفت ہوئی۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار خصوصی تعلیم میں بین الاقوامی اشتراک کیا گیا۔ برٹش کونسل اور سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں معاہدہ ہوگیا۔ برٹش کونسل اور محکمہ خصوصی تعلیم کے درمیان LOI پر دستخط کیے گئے۔ معاون خصوصی برائے سپیشل ایجوکیشن ثانیہ عاشق نے کنٹری ڈائریکٹر برٹش کونسل جیمز ہیمپسن کو حکومت پنجاب کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ برٹش کونسل نے خصوصی تعلیم میں تکنیکی معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ سکول کنیکٹ پروگرام کے تحت نمایاں سکولوں کے سربراہان کو ایوارڈز آف ایکسیلنس بھی دیئے گئے۔ ثانیہ عاشق نے کہا کہ خصوصی بچوں کی تعلیم اور تربیت حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ اساتذہ کے لیے بین الاقوامی تربیتی تبادلہ پروگرام ناگزیر ہے۔ آٹزم اور شمولیاتی تعلیم کے لیے برطانیہ کے تجربات سے استفادہ چاہتے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، صحت اور باوقار زندگی دینا مریم نواز کا مشن ہے۔ جیمز ہیمپسن نے کہا کہ خصوصی بچوں کے لیے پنجاب میں بااختیار بنانے کی نئی راہ متعین کرنے میں بھرپور تعاون کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: برٹش کونسل مریم نواز کا ا غاز کے لئے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔
ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔