غزہ کو اسرائیل میں ضم کرنیکی صیہونی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
صیہونی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی کابینہ نے حماس کو دھمکی دی ہے کہ اگر اسنے اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہ کیا تو وہ غزہ کے کچھ حصوں کو صیہونی رژیم میں ضم کر لیگی! اسلام ٹائمز۔ قابض اسرائیلی حکام نے عبرانی زبان کے صیہونی چینل 13 کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جلد ہی جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی پیشکش قبول نہ کی تو وہ غزہ کی پٹی کے کچھ حصوں کو قابض صیہونی رژیم میں ضم کر لے گا۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق غاصب اسرائیلی رژیم نے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کو ایک دستاویز بھی ارسال کی ہے کہ جس میں فوجی دستوں کی تعیناتی اور ثالث ممالک کے ذریعے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے اس کی سرخ لکیریں شامل ہیں۔
اس دستاویز میں تاکید کی گئی ہے کہ اسرائیل فلاڈیلفیا کوریڈور اور غزہ کے سرحدی بفر زون سے پیچھے نہیں ہٹے گا، رفح کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دے گا اور ایسے قیدیوں کی رہائی پر راضی نہیں ہو گا کہ جن کی رہائی سے ممکنہ جنگ بندی میں "یرغمالیوں" کے آخری گروپ کی رہائی مشکل ہو جائے! اسرائیلی ذرائع کے مطابق غاصب صیہونی حکام کو حماس کی جانب سے مزید لچک دکھائے جانے کی توقع نہیں جبکہ ایک سینئر اسرائیلی اہلکار کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ "اسرائیل زیادہ انتظار نہیں کرے گا"! صیہونی چینل 12 نے مزید کہا کہ وائٹ ہاؤس فی الحال غزہ کی پٹی کے کچھ حصوں کو ضم کرنے کے اسرائیلی اقدام کی منظوری دینے سے گریزاں ہے!
واضح رہے کہ یہ صیہونی رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب غاصب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے سینئر مشیروں کے ایک چھوٹے سے گروپ کے ساتھ ملاقات میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے اور حماس کے ساتھ جنگ بندی کے لئے جاری کوششوں کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قیدیوں کی رہائی
پڑھیں:
غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
اسرائیلی قابض جنگی طیاروں نے وسطی غزہ کی پٹی میں بوریج کیمپ میں ایک مسجد اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو فضائی حملے میں تباہ کردیا ہے۔
صفا نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے بوریج پناہ گزین کیمپ کے جنوب مشرق میں بلاک 9 میں مسجد النور اور اس کے آس پاس کے علاقے کو تباہ کر دیا۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ پولیس اسٹیشن کے قریب ایک مکان کو بھی نشانہ بنایا۔
مقامی میڈیا نمائندے نے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیارے غزہ کی پٹی کے متعدد علاقوں پر کم اونچائی پر پرواز کر رہے ہیں۔
غزہ شہر کے مشرق میں واقع زیتون محلے کے کچھ حصوں کے لیے بھی انخلا کی وارننگ جاری کی گئی جو کہ کئی دنوں سے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی زد میں ہے، نیز شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیہ پروجیکٹ کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
مسلسل اسرائیلی بمباری نے خطے میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس کو جنم دیا ہے جبکہ رہائشیوں کو متاثرہ علاقوں سے انخلا پر مجبور کیا جارہا ہے۔
گزشتہ سال اکتوبر سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں کارروائیاں اور حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جس میں متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔