WE News:
2026-07-24@09:50:49 GMT

سپریم کورٹ: طلاق یافتہ بیٹی کی پنشن پر اہم فیصلہ آگیا

اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT

سپریم کورٹ: طلاق یافتہ بیٹی کی پنشن پر اہم فیصلہ آگیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پنشن سے متعلق طلاق یافتہ بیٹیوں کے حق میں تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پنشن کسی بیٹی کو شادی کی حیثیت پر نہیں بلکہ اس کے قانونی حق کی بنیاد پر دی جائے گی۔ عدالت نے سندھ حکومت کے 2022 میں جاری کردہ امتیازی سرکلر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔

10 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس عائشہ اے ملک نے تحریر کیا، جس میں قرار دیا گیا ہے کہ:

’پنشن سرکاری ملازم کا قانونی حق ہے، خیرات یا بخشش نہیں، اور یہ حق اہل خانہ کو منتقل ہوتا ہے۔ اس میں تاخیر کرنا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: بانجھ پن کی بنیاد پر مہر یا نان نفقہ دینے سے انکار غیر قانونی قرار

یاد رہے کہ  درخواست گزار سورۃ فاطمہ نے، جو ایک طلاق یافتہ بیٹی ہیں، اپنے مرحوم والد کی پنشن کی بحالی کے لیے درخواست دی تھی۔ سندھ ہائیکورٹ لاڑکانہ بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا، جس کے خلاف سندھ حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سندھ حکومت کا مؤقف تھا کہ پنشن صرف اُسی بیٹی کو دی جا سکتی ہے جو والد کی وفات کے وقت طلاق یافتہ ہو، تاہم سپریم کورٹ نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔

فیصلے کی اہم نکات:

پنشن کے لیے بیٹی کی شادی شدہ یا طلاق یافتہ حیثیت غیر متعلقہ ہے۔

پنشن شادی کی بنیاد پر نہیں بلکہ مالی ضرورت اور قانونی حق کی بنیاد پر دی جانی چاہیے۔

سرکاری سرکلر قانون کی تشریح نہیں، بلکہ اس میں غیر قانونی شرط شامل کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: ترقی ہر سرکاری ملازم کا بنیادی حق قرار

بیٹیوں کو صرف اس لیے پنشن سے محروم کرنا کہ وہ والد کی وفات کے بعد طلاق یافتہ ہوئیں، آئین کے آرٹیکل 9، 14، 25 اور 27 کی خلاف ورزی ہے۔

صنفی مساوات پر اظہارِ تشویش

سپریم کورٹ نے فیصلے میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خواتین کے حقوق کے حوالے سے بدترین عالمی درجہ بندی (148 میں سے 148) پر ہے، حالانکہ ہم بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کر چکے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ عورتوں کو مالی طور پر خودمختار تصور نہ کرنا آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ آف پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ ا ف پاکستان کی بنیاد پر سپریم کورٹ طلاق یافتہ

پڑھیں:

باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس