بھارتی فوج کی گاڑی بڑی چٹان تلے دب کر تباہ؛ کرنل سمیت 2 افسران ہلاک اور 3 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
لداخ میں بھارتی فوج کے قافلے کی ایک گاڑی لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آگئی اور ایک بڑی پہاڑی چٹان اُن پر آن گری۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والے میں لیفٹیننٹ کرنل بھانو پرتاپ سنگھ اور لانس دافدار دلجیت سنگھ شامل ہیں جب کہ 3 فوجی افسر زخمی ہیں۔
زخمیوں میں میجر ماینک شبھم، میجر امِت دکشت اور کیپٹن گورَو شامل ہیں جنہیں فوری طور پر آرمی کے 153 جنرل اسپتال لیہ منتقل کیا گیا تھا۔
زخمیوں میں سے 2 کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جنھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بڑے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
فوجی ترجمان کے مطابق یہ اس وقت پیش آیا جب فوجی قافلہ دوربوک سے چونگتاش کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں ایک بڑی چٹان گاڑی پر آگری۔
حادثے کے فوراً بعد ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا، جس میں مختلف فوجی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
فوجی ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاہم پہاڑی علاقے میں فوجی نقل و حرکت کے دوران قدرتی خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔