میانمار: فوجی حکومت الیکشن کیخلاف مظاہروں پر سخت سزائیں دے گی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
میانمار کی فوجی حکومت نے انتخابی مظاہروں پر سخت سزاؤں کا قانون نافذ کر دیا۔
بین اقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے قانون کے تحت الیکشن کیخلاف تقریر اور احتجاج پر طویل قید کی سزا دی جائے گی۔ قانون کے مطابق الیکشن عمل میں خلل ڈالنے پر 3 سے7 سال قید کی سزا ہو گی۔
اجتماعی خلاف ورزی پر سزائیں 5 سے 10 سال قید تک بڑھا دی جائیں گی۔
ووٹروں یا امیدواروں کو دھمکانے یا نقصان پہنچانے پر 20 سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ الیکشن کے دوران کسی کی ہلاکت میں ملوث افراد کو سزائے موت دی جائےگی۔
نیا قانون ایسے کسی بھی عمل کو جرم قرار دیتا ہے جو انتخابی عمل کو متاثر کرتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق میانمار میں انتخابات رواں سال کے آخر میں متوقع ہیں۔ قانون کے تحت بیلٹ پیپر یا پولنگ اسٹیشن کو نقصان پہنچانے پر بھی سزا ملےگی۔
فوجی حکومت نے2021 میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ کئی علاقوں پر فوجی حکومت کا کنٹرول نہیں ہے اور خانہ جنگی اب بھی جاری ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فوجی حکومت
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔