اسرائیل میں آج کی ’رات کو دن کے نظارے‘ میں بدل دیں گے، ایران
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایران کی نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی سرزمین پر بلا اشتعال اسرائیلی جارحیت نے تہران کو مجبور کر دیا کہ وہ ایرانی قوم اور ملک کی سلامتی کے دفاع کے لیے مجرم صیہونیوں کو جواب دے۔ جوابی کارروائی کے طور پر ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ کے تحت ایران نے پیر کی رات فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کی جانب میزائلوں کی بڑی تعداد فائر کر دی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ دن بھر کی اسرائیلی جارحیت کے بعد چوتھے روز بھی ایران نے ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ کے تحت جوابی کارروائی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقوں پر جدید بیلسٹک میزائل داغ دیے ہیں۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائل فضاؤں میں ہیں، اور اسرائیل کی جانب بڑھ رہے ہیں، حیفہ اور دیگر علاقوں میں سائرن بجاکر شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں تک جانے کی ہدایت کی جارہی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق میزائل شمالی اسرائیل کے مختلف علاقوں پر گرسکتے ہیں، میزائل حملے کو ناکام بنانے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے، تاہم شہری اگلی ہدایات تک محفوظ مقامات شیلٹرز میں اور پناہ گاہوں میں چلے جائیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایران نے چند ہی میزائل داغے ہیں، میڈیکل ٹیمیں تیار ہیں، تاہم اب تک کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ تہران ٹائمز کے مطابق ایران کی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں آج کی ’رات کو دن کے نظارے‘ میں بدل دیں گے۔ ایران کی نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی سرزمین پر بلا اشتعال اسرائیلی جارحیت نے تہران کو مجبور کر دیا کہ وہ ایرانی قوم اور ملک کی سلامتی کے دفاع کے لیے مجرم صیہونیوں کو جواب دے۔ جوابی کارروائی کے طور پر ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ کے تحت ایران نے پیر کی رات فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کی جانب میزائلوں کی بڑی تعداد فائر کر دی ہے۔ اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی اب تک کی کارروائیوں کے نتیجے میں 24 یہودی شہری ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کی کے مطابق ایران نے کی جانب
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔